Book
بانگِ درا
Bang-e-Dara — The Call of the Marching Bell
Allama Iqbal (1877–1938)
172 poems4,765 linesWith English translation
arooz scans 79.5% of the lines
Contents
حصۂ اوّل (۱۹۰۵ تک)
Part one — up to 1905- 1ہمالہاے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں46/47
- 2گل رنگیںتو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہیں8/24
- 3عہد طفلیتھے دیارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے12/12
- 4مرزا غالبفکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہُوا27/30
- 5ابر کوہسارہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا20/24
- 6ایک مکڑا اور مکھیاک دن کسی مکھّی سے یہ کہنے لگا مکڑا38/48
- 7ایک پہا ڑ اور گلہریکوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے23/24
- 8ایک گائے اور بکریاک چراگہ ہری بھری تھی کہیں53/58
- 9بچے کی د عالب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری10/12
- 10ہمدردیٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا14/16
- 11ماں کا خوابمیں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب29/30
- 12پر ندے کی فر یادآتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا17/22
- 13خفتگان خاک سے استفسارمہرِ روشن چھُپ گیا، اُٹھّی نقابِ رُوئے شام46/52
- 14شمع و پروانہپروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع! پیار کیوں15/16
- 15عقل و دلعقل نے ایک دن یہ دل سے کہا23/26
- 16صدائے دردجل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے17/18
- 17آفتاباے آفتاب! رُوح و روانِ جہاں ہے تُو17/20
- 18شمعبزمِ جہاں میں مَیں بھی ہُوں اے شمع! دردمند54/58
- 19ایک آرزودُنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب!34/40
- 20آفتاب صبحشورشِ میخانۂ انساں سے بالاتر ہے تو42/42
- 21درد عشقاے دردِ عشق! ہے گُہرِ آب دار تُو25/26
- 22گل پژمردہکس زباں سے اے گُلِ پژمردہ تُجھ کو گُل کہوں11/12
- 23سیدکی لوح تربتاے کہ تیرا مرغِ جاں تارِ نفَس میں ہے اسیر25/28
- 24ماہ نوٹُوٹ کر خورشید کی کشتی ہوئی غرقابِ نیل14/14
- 25انسان اور بزم قد رتصبح خورشیدِ دُرَخشاں کو جو دیکھا میں نے35/40
- 26پیا م صبحاُجالا جب ہُوا رخصت جبینِ شب کی افشاں کا12/18
- 27عشق اور موتسُہانی نمودِ جہاں کی گھڑی تھی41/46
- 28ز ہد اور رندیاک مولوی صاحب کی سُناتا ہوں کہانی49/54
- 29شاعرقوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم5/6
- 30دلقصہ دار و رسن بازی طفلانہ دل8/18
- 31مو ج دریامضطرب رکھتا ہے میرا دلِ بے تاب مجھے10/12
- 32رخصت اے بزم جہاںرُخصت اے بزمِ جہاں! سُوئے وطن جاتا ہوں مَیں37/42
- 33طفل شیر خوارمَیں نے چاقو تجھ سے چھِینا ہے تو چِلّاتا ہے تُو21/24
- 34تصویر دردنہیں منّت کشِ تابِ شنیدن داستاں میری129/138
- 35نا لہ فراقجا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں23/30
- 36چاندمیرے ویرانے سے کوسوں دُور ہے تیرا وطن25/26
- 37بلالچمک اُٹھا جو ستارہ ترے مقدّر کا19/26
- 38سر گزشت آدمسُنے کوئی مِری غربت کی داستاں مجھ سے35/36
- 39ترانہء ہندیسارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا16/18
- 40جگنوجگنو کی روشنی ہے کاشانہء چمن میں30/36
- 41صبح کا ستارہلُطفِ ہمسایگیِ شمس و قمر کو چھوڑوں33/40
- 42ہندوستانی بچوں کا قومی گیتچشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا14/20
- 43نیا شوالاسچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو بُرا نہ مانے12/18
- 44داغعظمتِ غالبؔ ہے اک مدّت سے پیوندِ زمیں37/46
- 45ابرٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا11/14
- 46ایک پرندہ اور جگنوسرِ شام ایک مرغِ نغمہ پیرا24/24
- 47بچہ اور شمعکیسی حیرانی ہے یہ اے طفلکِ پروانہ خُو!28/30
- 48کنار راویسکُوتِ شام میں محوِ سرود ہے راوی18/24
- 49التجائے مسافرفرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا40/42
غزلیات
Ghazals- 50گُلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ7/8
- 51نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی12/12
- 52عجب واعظ کی دینداری ہے یا ربعجب واعظ کی دیںداری ہے یا رب!10/10
- 53لائوں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیےلاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے14/14
- 54کیا کہوں اپنے چمن سے مَیں جُدا کیونکر ہوا19/20
- 55انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں15/16
- 56ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی13/18
- 57کہوں کیا آرزوئے بے دلی مُجھ کو کہاں تک ہے17/18
- 58جنھیں مَیں ڈھُونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں31/36
- 59ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں11/12
- 60کُشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے16/18
- 61سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میں12/12
- 62مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے23/24
حصۂ دوم (۱۹۰۵ سے ۱۹۰۸ تک)
Part two — 1905 to 1908- 63محبتعروسِ شب کی زُلفیں تھیں ابھی ناآشنا خَم سے29/32
- 64حقیقت حسنخدا سے حُسن نے اک روز یہ سوال کیا13/14
- 65پیا معشق نے کر دیا تجھے ذوقِ تپش سے آشنا14/14
- 66سوامی رام تیر تھہم بغَل دریا سے ہے اے قطرۂ بے تاب تو11/12
- 67طلبہء علی گڑھ کالج کے ناماَوروں کا ہے پیام اور، میرا پیام اور ہے13/14
- 68اختر صبحستارہ صبح کا روتا تھا اور یہ کہتا تھا12/12
- 69حسن و عشقجس طرح ڈُوبتی ہے کشتیِ سیمینِ قمر20/21
- 70کی گود میں بلی دیکھ کرتجھ کو دُزدیدہ نگاہی یہ سِکھا دی کس نے20/22
- 71کلیجب دکھاتی ہے سحر عارض رنگیں اپنا12/18
- 72چاند اور تارےڈرتے ڈرتے دمِ سحر سے22/24
- 73و صالجُستجو جس گُل کی تڑپاتی تھی اے بُلبل مجھے20/22
- 74سلیمیجس کی نمود دیکھی چشمِ ستارہ بیں نے10/10
- 75عا شق ہر جائیہے عجب مجموعہء اضداد اے اقبال تو25/50
- 76کوشش نا تما مفُرقتِ آفتاب میں کھاتی ہے پیچ و تاب صُبح8/12
- 77نوائے غمزندگانی ہے مری مثلِ ربابِ خاموش16/16
- 78عشر ت امروزنہ مجھ سے کہہ کہ اجل ہے پیامِ عیش و سرور14/14
- 79انسانقُدرت کا عجیب یہ ستم ہے!20/21
- 80جلوہء حسنجلوۂ حُسن کہ ہے جس سے تمنّا بے تاب10/10
- 81ایک شامخاموش ہے چاندنی قمر کی14/14
- 82تنہائیتنہائیِ شب میں ہے حزیں کیا9/10
- 83پیام عشقسن اے طلب گار درد پہلو! میں ناز ہوں ، تو نیاز ہو جا6/14
- 84فراقتلاش گوشہء عزلت میں پھر رہا ہوں میں8/14
- 85عبد القادر کے ناماُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفقِ خاور پر19/22
- 86صقلیہرو لے اب دل کھول کر اے دیدہء خوننابہ بار18/34
غزلیات
Ghazals- 87زندگی انساں کی اک دَم کے سوا کچھ بھی نہیں8/8
- 88الٰہی عقلِ خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سِکھا دے10/12
- 89زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اُٹھّے گا گفتگو کا23/26
- 90چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں15/16
- 91یوں تو اے بزمِ جہاں! دِلکش تھے ہنگامے ترے9/10
- 92مثالِ پرتوِ مے طوفِ جام کرتے ہیں17/20
- 93زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا30/34
حصۂ سوم (۱۹۰۸ سے آگے)
Part three — after 1908- 94بلاد اسلامیہسرزمیں دلّی کی مسجودِ دلِ غم دیدہ ہے34/44
- 95ستارہقمر کا خوف کہ ہے خطرہء سحر تجھ کو12/16
- 96دوستارےآئے جو قِراں میں دو ستارے12/12
- 97گورستان شاہیآسماں ، بادل کا پہنے خرقہء دیرینہ ہے51/116
- 98نمود صبحہو رہی ہے زیرِ دامانِ اُفُق سے آشکار15/17
- 99تضمین بر شعر انیسی شاملوہمیشہ صورتِ بادِ سحَر آوارہ رہتا ہوں15/18
- 100فلسفہ غمگو سراپا کیفِ عشرت ہے شرابِ زندگی60/64
- 101پھول کا تحفہ عطا ہونے پروہ مستِ ناز جو گُلشن میں جا نکلتی ہے10/14
- 102ترانہ ملیچِین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا21/22
- 103وطنیتاس دور میں مے اور ہے، جام اور ہے جم اور20/24
- 104ایک حاجی مدینے کے راستے میںقافلہ لُوٹا گیا صحرا میں اور منزل ہے دُور14/18
- 105قطعہکل ایک شوریدہ خواب گاہ نبی پہ رو رو کے کہہ رہا تھا6/8
- 106شکوہکیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں122/186
- 107چانداے چاند! حُسن تیرا فطرت کی آبرو ہے15/16
- 108رات اور شاعرکیوں میری چاندنی میں پھرتا ہے تُو پریشاں24/28
- 109بزم انجمسُورج نے جاتے جاتے شامِ سیہ قبا کو26/30
- 110سیر فلکتھا تخیُّل جو ہم سفر میرا24/28
- 111نصیحتمیں نے اقبالؔ سے از راہِ نصیحت یہ کہا20/24
- 112راملبریز ہے شراب حقیقت سے جام ہند10/12
- 113موٹرکیسی پتے کی بات جُگندر نے کل کہی10/12
- 114انسانمنظر چَمنِستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا10/10
- 115خطاب بہ جوانان اسلامکبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کِیا تُو نے16/24
- 116غرہ شوالغرہء شوال! اے نور نگاہ روزہ دار22/36
- 117شمع اور شاعردوش می گُفتم بہ شمعِ منزلِ ویرانِ خویش152/172
- 118مسلمہر نفَس اقبالؔ تیرا آہ میں مستور ہے36/36
- 119حضور رسالت مآب میںگراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہُوا15/22
- 120شفاخانہ حجازاک پیشوائے قوم نے اقبالؔ سے کہا16/16
- 121جواب شکوہدل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے182/216
- 122ساقینشہ پِلا کے گِرانا تو سب کو آتا ہے4/6
- 123تعلیم اور اس کے نتائجخوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقّی سے مگر6/8
- 124قرب سلطانتمیزِ حاکم و محکوم مِٹ نہیں سکتی12/20
- 125شا عرجوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سے8/16
- 126نو ید صبحآتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحَر15/16
- 127دعایا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے20/20
- 128عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میںیہ شالامار میں اک برگِ زرد کہتا تھا11/12
- 129فاطمہ بنت عبداللہفاطمہ! تُو آبرُوئے اُمّتِ مرحوم ہے24/24
- 130شبنم اور ستارےاک رات یہ کہنے لگے شبنم سے ستارے27/28
- 131محاصرہ ادرنہیورپ میں جس گھڑی حق و باطل کی چھِڑ گئی12/16
- 132غلام قادر رہیلہرُہیلہ کس قدر ظالم، جفاجُو، کینہپرور تھا24/26
- 133ایک مکالمہاک مُرغِ سرا نے یہ کہا مُرغِ ہوا سے13/14
- 134میں اورتومذاقِ دید سے ناآشنا نظر ہے مری12/14
- 135تضمین بر شعر ابوطالب کلیمخوب ہے تجھ کو شعار صاحب ثیرب کا پاس8/14
- 136شبلی وحالیمسلم سے ایک روز یہ اقبال نے کہا10/20
- 137ارتقاستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز6/14
- 138صدیقاک دن رسول پاک نے اصحاب سے کہا16/26
- 139تہذیب حاضرحرارت ہے بلاکی بادئہ تہذیب حاضر میں8/16
- 140والدہ مرحومہ کی یاد میںذرہ ذرہ دہر کا زندانی تقدیر ہے83/172
- 141شعاع آفتابصبح جب میری نگہ سودائیِ نظّارہ تھی16/18
- 142عرفیمحل ایسا کیا تعمیر عرفی کے تخیل نے7/14
- 143ایک خط کے جواب میںہوَس بھی ہو تو نہیں مجھ میں ہمّتِ تگ و تاز9/12
- 144نانکقوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کی14/16
- 145کفر واسلامایک دن اقبالؔ نے پُوچھا کلیمِ طُور سے12/15
- 146بلاللِکھّا ہے ایک مغربیِ حق شناس نے16/20
- 147مسلمان اور تعلیم جدیدمُرشد کی یہ تعلیم تھی اے مسلمِ شوریدہ سر13/17
- 148پھولوں کی شہز ادیکلی سے کہہ رہی تھی ایک دن شبنم گُلستاں میں14/16
- 149تضمین بر شعر صائبکہاں اقبالؔ تُو نے آ بنایا آشیاں اپنا12/14
- 150فردوس میں ایک مکالمہہاتِف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روز19/26
- 151مذ ہبتعلیم پیر فلسفہء مغربی ہے یہ5/12
- 152جنگ یر موک کاایک واقعہصف بستہ تھے عرب کے جوانانِ تیغ بند13/20
- 153مذ ہباپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر6/6
- 154پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شَجر سے ٹُوٹ11/12
- 155شبِ معراجاخترِ شام کی آتی ہے فلک سے آواز4/4
- 156پھولتجھے کیوں فکر ہے اے گُل دلِ صد چاکِ بُلبل کی15/16
- 157شیکسپیرشفَقِ صبح کو دریا کا خرام آئینہ14/14
- 158میں اورتونہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا8/18
- 159اسیریہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند2/8
- 160دریوزہ خلافتاگر مُلک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے5/8
- 161ہمایوںاے ہمایوں! زندگی تیری سراپا سوز تھی10/10
- 162خضرراہساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر67/170
- 163طلوع اسلامدلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی117/144
غزلیات
Ghazals- 164اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا3/10
- 165یہ سرودِ قُمری و بُلبل فریبِ گوش ہے9/12
- 166نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی19/20
- 167پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کر13/16
- 168پھر بادِ بہار آئی، اقبالؔ غزل خواں ہو11/12
- 169کبھی اے حقیقت منتظر نظر لباس مجاز میںبھی اے حقیقت منتظر نظر لباس مجاز میں9/14
- 170تہِ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کیا7/8
- 171گرچہ تُو زندانیِ اسباب ہے6/8
ظریفانہ
Humorous verseBeside each poem: how many of its lines arooz scans. A line it cannot scan is marked in the text — a limit of arooz, not of the poet.