Bang-e-Dara · 36 of 172

چاند

Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 25 of 26 lines

میرے ویرانے سے کوسوں دُور ہے تیرا وطن

ہے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن

قصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟

زرد رُو شاید ہوا رنجِ رہِ منزل سے تو

آفرنیش میں سراپا نور تُو، ظُلمت ہوں میںarooz could not scan this line

اس سیہ روزی پہ لیکن تیرا ہم قسمت ہوں میں

آہ! مَیں جلتا ہوں سوزِ اشتیاقِ دید سے

تو سراپا سوز داغِ منّتِ خورشید سے

ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے

میری گردش بھی مثالِ گردشِ پَرکار ہے

زندگی کی رہ میں سرگرداں ہے تُو، حیراں ہوں مَیں

تُو فروزاں محفلِ ہستی میں ہے، سوزاں ہوں مَیں

مَیں رہِ منزل میں ہوں، تُو بھی رہِ منزل میں ہے

تیری محفل میں جو خاموشی ہے، میرے دل میں ہے

تُو طلب خُو ہے تو میرا بھی یہی دستور ہے

چاندنی ہے نور تیرا، عشق میرا نور ہے

انجمن ہے ایک میری بھی جہاں رہتا ہوں میں

بزم میں اپنی اگر یکتا ہے تُو، تنہا ہوں مَیں

مہرِ کا پرتَو ترے حق میں ہے پیغامِ اجل

محو کر دیتا ہے مجھ کو جلوۂ حُسنِ ازل

پھر بھی اے ماہِ مبیں! مَیں اور ہوں تُو اور ہے

درد جس پہلو میں اُٹھتا ہو، وہ پہلو اور ہے

گرچہ مَیں ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو

سینکڑوں منزل ہے ذوقِ آگہی سے دُور تو

جو مری ہستی کا مقصد ہے، مجھے معلوم ہے

یہ چمک وہ ہے، جبیں جس سے تری محروم ہے

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.