Bang-e-Dara · 106 of 172

شکوہ

Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن سالم مخبون محذوف
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
arooz scans 122 of 186 lines

کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں

فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رھوںarooz could not scan this line

نالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں

ہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں

جُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کوarooz could not scan this line

شکوہ اللہ سے، خاکمِ بدہن ہے مجھ کوarooz could not scan this line

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم

قصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

ساز خاموش میں، فریاد سے معمور ہیں ہم

نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے

خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلہ بھی سُن لے

تھی توموجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم

پُھول تھا زیب چمن پر نہ پریشان تھی شمیمarooz could not scan this line

شرطِ اِنصاف ہے اَے صاحبِ الطافِ عمیمarooz could not scan this line

بوئے گُل پھیلتی کِس طرح جو نہ ہوتی نسیمarooz could not scan this line

ہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھی

ورنہ اُمّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی؟arooz could not scan this line

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہان کا منظرarooz could not scan this line

کہیں مسجود تھے پتّھر، کہیں معبود شجر

خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی اِنساں کی نظر

مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر

تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟

قوّتِ بازوئے مسلم نے کیا کام تراarooz could not scan this line

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ،تُورانی بھی

اہلِ چیں چین میں، ایران میں ساسانی بھی

اِسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیarooz could not scan this line

اِسی دُنیا میں یہودی بھی تھے،نصرانی بھیarooz could not scan this line

پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے

بات جو بگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں

خشکیوں میں کبھی لڑتے ،کبھی دریاؤں میں

دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میںarooz could not scan this line

شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی

کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی میصبت کے لیےarooz could not scan this line

اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےarooz could not scan this line

تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے

سر بکف پھرتے تھے کیا،کیا دہر میں دولت کے لیے؟arooz could not scan this line

قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پہ مرتی

بُت فروشی کے عِوض بُت شکنی کیوں کرتی؟arooz could not scan this line

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے

پاؤں شیر کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھےarooz could not scan this line

تجھ سے سر کش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے

تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

نقش توحید کاہر دِل پہ بٹھایا ہم نےarooz could not scan this line

زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے

تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے

شہر قیصر کا جوتھا،اُسکو کیا سَر کس نےarooz could not scan this line

توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے

کاٹ کے رکھ دیے کفّار کے لشکر کس نے

کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟arooz could not scan this line

کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟

کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی

اور تیرے لیے زحمت کشِ پیکار ہوئی

کِس کی شمشیر جہاں گیر،جہاں دار ہوئیarooz could not scan this line

کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے

مُنہ کے بَل گر کے "ھُوَ اللہُ اَحَد"کہتے تھےarooz could not scan this line

آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز

قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ ہی کوئی بندہ نوازarooz could not scan this line

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے

مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرےarooz could not scan this line

کوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے

اور معلوم ہے تجھ کو،کبھی ناکام پھرے

دشت تو دشت ہیں ،دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

صفحۂ دۃر سے باطل سے کومٹایا ہم نےarooz could not scan this line

نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے

تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے

تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے

پھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیں

ہم وفادار نہیں،تُو بھی تو دِلدار نہیں!

اُمتیں اور بھی ہیں، اُن میں گناہگار بھی ہیںarooz could not scan this line

عجز والے بھی ہیں، مست مئے پندار بھی ہیںarooz could not scan this line

ان میں کاہل بھی ہیں،غافل بھی ہیں،ہشیار بھی ہیں

سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشنوں پرarooz could not scan this line

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پرarooz could not scan this line

بُت صنم خانوں مین کہتے ہیں مسلماں گئےarooz could not scan this line

ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے

منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خواں گئیarooz could not scan this line

اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےarooz could not scan this line

خندہ زن ہے کُفر،احساس تجھے ہے کے نہیںarooz could not scan this line

اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں

یہ شکایت نہیں، ہیں اُن کے خزانے معمور

نہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعور

قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصور

اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور

اب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیں

بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں

کیوں مسلماں میں ہے دولتِ دنیا نایابarooz could not scan this line

تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب

تُو جو چاہے تو اُٹھے سینۂ صحرا سے حباب

رہروِ دشت ہو سیلی زدۂ موجِ سرابarooz could not scan this line

طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے،ناداری ہے

کیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟arooz could not scan this line

بنی اغیار کی چاہنے والی دنیاarooz could not scan this line

رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا

ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا

پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے حالی دنیا

ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہےarooz could not scan this line

کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے، جام رہے؟

تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے

شب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئے

دل تجھے دے بھی گئے، اپنی صِلا لے بھی گئے

آ کے بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئےarooz could not scan this line

آئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر

اب اُنہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر

دردِ لیلیٰ بھی وہی، قیس کا پہلو بھی وہی

نجد کے دشت و جبل میں رَمِ آہو بھہ وہی

عشق کا دل بھی وہی، خسن کا جادو بھی وہیarooz could not scan this line

اُمّتِ احمدِ مرسل بھی وہی، تُو بھی وہی

پھر یہ آزردگیِ غیر سبب کا معنی

اپنے شیداؤں یہ چشمِ غضب کیا معنیarooz could not scan this line

تجھ کو چھوڑا کہ رسولِ عربی کو چھوڑا؟

بُت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟arooz could not scan this line

عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟

رسمِ سلمانؓو اویس قرنیؓ کو چھوڑا؟arooz could not scan this line

آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں

زندگی مثلِ بلال حبشی رکھتے ہیںarooz could not scan this line

عشق کی خیر وہ پہلے سی ادا بھی نہ سہی

جادہ پیمائیِ تسلیم و رضا بھی نہ سہی

مُضطِرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیarooz could not scan this line

اور پابندیِ آئینِ وفا بھی نہ سہی

کبھی ہم سے، کبھی غیروں سے شناسائی ہے

بات کہنے کی نہیں،تُو بھی تو ہرجائی ہے!

سرِ فاران کیا دین کو کامل تُو نے

اِک اشارے میں پزروں کے لیے دل تُو نےarooz could not scan this line

آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے

پُھونک دی گرمیِ رُخسار سے محفل تُو نے

آج کیوں سینے ہمارے شرر بار نہیںarooz could not scan this line

ہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں؟

وادی نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہاarooz could not scan this line

قیس دیوانۂ نظّارۂ محمل نہ رہا

حوصلے وہ نہ رہے، ہم نہ رہے، دل نہ رہا

گھر یہ اُجڑا ہے کہ تُو رونقِ محفل نہ رہاarooz could not scan this line

اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی

بے حجابانہ سُوئے محفلِ ما باز آئیarooz could not scan this line

بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لبِ جُو بیٹھے

سُنتے ہیں جام بکف نغمۂ کُو کُو بیٹے

دور ہنگامۂ گُلزار سے یک سُو بیٹھے

تیرے دیوانے بھی ہیں مُنتظر "ھُو" بیٹھےarooz could not scan this line

اپنے پروانوں کی پھر ذوقِ خُود افروزی دےarooz could not scan this line

برقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے

قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سُوئے حجاز

لے اُرا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پرواز

مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے، بُوئے نیاز

تُو ذرا چھیڑ تو دے، تشنۂ مضراب ہے ساز

نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نلکنے کے لیےarooz could not scan this line

طُور مضطر ہے اُسی آگ میں جلنے کے لیے

مُشکلیں اُمّتِ مرحوم کی آساں کر دے

مُورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کر دے

جنس نایابِ محبّت کو پھر ارزاں کر دے

ہند کے دَیر نشینوں کو مسلماں کر دے

جُوئے خوں می چکدا از حسرتِ دیرینہ ماarooz could not scan this line

می تپد نالۂ بہ نشتر کدۂ سینۂ ماarooz could not scan this line

بُوئے گُل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن

کیا قیامت ہے کہ خود کہ خود پُھول ہیں غمّازِ چمن!arooz could not scan this line

عہدِ گُل ختم ہوا، ٹوٹ گیا سازِ چمن

اُڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمن

ایک بُلبل ہے کہ محو ترنّم ہے اب تکarooz could not scan this line

اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک

قُمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں

پتّیاں پُھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں

وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںarooz could not scan this line

ڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہوئیں

قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی

کاش گُلشن سمجھتا کوئی فریاد اس کی!arooz could not scan this line

لُطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میں

کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں

کتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میں

کس قدر جلواے تڑپ رہے ہیں مرے سینے میںarooz could not scan this line

اس گُلستان میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںarooz could not scan this line

داغ جو سینے میں رکھتا ہوں، وہ لالے ہی نہیں

چاک اس بُلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوں

جاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوں

یعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوںarooz could not scan this line

پھر اِسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں

عجمی خُم ہے تو کیا،مے تو حجازی ہے مریarooz could not scan this line

نغمہ ہندی ہے تو کیا،لَے تو حجازی ہے مریarooz could not scan this line

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.