Bang-e-Dara · 61 of 172

سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میں

Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 12 of 12 lines

سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میں

ہائے کیا اچھّی کہی ظالم ہوں میں، جاہل ہوں میں

میں جبھی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی

جو نمودِ حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں

علم کے دریا سے نِکلے غوطہ زن گوہر بدست

وائے محرومی! خزف چینِ لبِ ساحل ہوں میں

ہے مری ذلّت ہی کچھ میری شرافت کی دلیل

جس کی غفلت کو مَلَک روتے ہیں وہ غافل ہوں میں

بزمِ ہستی! اپنی آرائش پہ تُو نازاں نہ ہو

تُو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں

ڈھُونڈتا پھرتا ہوں اے اقبالؔ اپنے آپ کو

آپ ہی گویا مسافر، آپ ہی منزل ہوں میں

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.