Bang-e-Dara · 52 of 172

عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب

Allama Iqbal
Bahrہزج مسدس محذوف
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
arooz scans 10 of 10 lines

عجب واعظ کی دیں‌داری ہے یا رب!

عداوت ہے اسے سارے جہاں سے

کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں

کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے

وہیں سے رات کو ظلمت ملی ہے

چمک تارے نے پائی ہے جہاں سے

ہم اپنی دردمندی کا فسانہ

سُنا کرتے ہیں اپنے رازداں سے

بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں

لَرز جاتا ہے آوازِ اذاں سے

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.