Bang-e-Dara · 55 of 172

انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
arooz scans 15 of 16 lines

انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں

یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں

علاجِ درد میں بھی درد کی لذّت پہ مرتا ہُوں

جو تھے چھالوں میں کانٹے، نوکِ سوزن سے نکالے ہیں

پھلا پھُولا رہے یا رب! چمن میری اُمیدوں کا

جگر کا خون دے دے کر یہ بُوٹے مَیں نے پالے ہیں

رُلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی

نرالا عشق ہے میرا، نرالے میرے نالے ہیں

نہ پُوچھو مجھ سے لذّت خانماں برباد رہنے کی

نشیمن سینکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں

نہیں بیگانگی اچھّی رفیقِ راہِ منزل سے

ٹھہر جا اے شرر، ہم بھی تو آخر مِٹنے والے ہیںarooz could not scan this line

اُمیدِ حور نے سب کچھ سِکھا رکھا ہے واعظ کو

یہ حضرت دیکھنے میںسیدھے سادے، بھولے بھالے ہیں

مرے اشعار اے اقبالؔ! کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو

مرے ٹُوٹے ہُوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.