Bang-e-Dara · 24 of 172

ماہ نو

Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 14 of 14 lines

ٹُوٹ کر خورشید کی کشتی ہوئی غرقابِ نیل

ایک ٹکڑا تیرتا پھرتا ہے رُوئے آبِ نیل

طشتِ گردُوں میں ٹپکتا ہے شفَق کا خونِ ناب

نشترِ قُدرت نے کیا کھولی ہے فصدِ آفتاب

چرخ نے بالی چُرا لی ہے عروسِ شام کی

نیل کے پانی میں یا مچھلی ہے سیمِ خام کی

قافلہ تیرا رواں بے منّتِ بانگِ درا

گوشِ انساں سُن نہیں سکتا تری آوازِ پا

گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دِکھلاتا ہے تُو

ہے وطن تیرا کدھر، کس دیس کو جاتا ہے تُو

ساتھ اے سیّارۂ ثابت نما لے چل مجھے

خارِ حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے

نور کا طالب ہوں، گھبراتا ہوں اس بستی میں مَیں

طفلکِ سیماب پا ہوں مکتبِ ہستی میں مَیں

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.