Bang-e-Dara · 120 of 172

شفاخانہ حجاز

Allama Iqbal
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 16 of 16 lines

اک پیشوائے قوم نے اقبالؔ سے کہا

کھُلنے کو جدّہ میں ہے شفاخانۂ حجاز

ہوتا ہے تیری خاک کا ہر ذرّہ بے قرار

سُنتا ہے تُو کسی سے جو افسانۂ حجاز

دستِ جُنوں کو اپنے بڑھا جیب کی طرف

مشہور تُو جہاں میں ہے دیوانۂ حجاز

دارالشّفا حوالیِ بطحا میں چاہیے

نبضِ مریض پنجۂ عیسیٰ میں چاہیے

مَیں نے کہا کہ موت کے پردے میں ہے حیات

پوشیدہ جس طرح ہو حقیقت مجاز میں

تلخابۂ اجل میں جو عاشق کو مِل گیا

پایا نہ خِضر نے مئے عمرِ دراز میں

اوروں کو دیں حضور! یہ پیغامِ زندگی

مَیں موت ڈھُونڈتا ہوں زمینِ حجاز میں

آئے ہیں آپ لے کے شفا کا پیام کیا

رکھتے ہیں اہلِ درد مسیحا سے کام کیا!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.