شعاع آفتاب
صبح جب میری نگہ سودائیِ نظّارہ تھی
آسماں پر اک شُعاعِ آفتاب آوارہ تھی
مَیں نے پُوچھا اُس کرن سے “اے سراپا اضطراب!arooz could not scan this line
تیری جانِ ناشکیبا میں ہے کیسا اضطراب
تُو کوئی چھوٹی سی بجلی ہے کہ جس کو آسماں
کر رہا ہے خرمنِ اقوام کی خاطر جواں
یہ تڑپ ہے یا ازل سے تیری خُو ہے، کیا ہے یہ
رقص ہے، آوارگی ہے، جُستجو ہے، کیا ہے یہ؟”
“خُفتہ ہنگامے ہیں میری ہستیِ خاموش میںarooz could not scan this line
پرورش پائی ہے مَیں نے صُبح کی آغوش میں
مُضطرب ہر دَم مری تقدیر رکھتی ہے مجھے
جُستجو میں لذّتِ تنویر رکھتی ہے مجھے
برقِ آتش خُو نہیں، فطرت میں گو ناری ہوں مَیں
مہرِ عالم تاب کا پیغامِ بیداری ہوں مَیں
سُرمہ بن کر چشمِ انساں میں سما جاؤں گی مَیں
رات نے جو کچھ چھُپا رکھّا تھا، دِکھلاؤں گی مَیں
تیرے مستوں میں کوئی جویائے ہشیاری بھی ہے
سونے والوں میں کسی کو ذوقِ بیداری بھی ہے؟”
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.