عقل و دل
عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا
بھُولے بھٹکے کی رہنما ہُوں میں
ہوں زمیں پر، گزر فلک پہ مرا
دیکھ تو کس قدر رسا ہوں میں
کام دنیا میں رہبری ہے مرا
مثل خضرِ خجستہ پا ہوں میںarooz could not scan this line
ہوں مفسِّر کتابِ ہستی کی
مظہرِ شانِ کبریا ہوں میں
بوند اک خون کی ہے تُو لیکن
غیرتِ لعلِ بے بہا ہوں میں
دل نے سُن کر کہا یہ سب سچ ہے
پر مجھے بھی تو دیکھ، کیا ہوں میں
رازِ ہستی کو تُو سمجھتی ہے
اور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں!
ہے تجھے واسطہ مظاہر سے
اور باطن سے آشنا ہوں میں
عِلم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تُو خدا جُو، خدا نما ہوں میں
علم کی انتہا ہے بے تابی
اس مرض کی مگر دوا ہوں میں
شمع تُو محفلِ صداقت کی
حُسن کی بزم کا دِیا ہوں میں
تُو زمان و مکاں سے رشتہ بپا
طائرِ سِدرہ آشنا ہوں میںarooz could not scan this line
کس بلندی پہ ہے مقام مرا
عرش ربِّ جلیل کا ہوں میں!arooz could not scan this line
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.