مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
نظّارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے
واعظ! کمالِ ترک سے مِلتی ہے یاں مراد
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے
تقلید کی روِش سے تو بہتر ہے خودکُشی
رستہ بھی ڈھُونڈ، خِضر کا سودا بھی چھوڑ دے
مانندِ خامہ تیری زباں پر ہے حرفِ غیر
بیگانہ شے پہ نازشِ بے جا بھی چھوڑ دے
لُطفِ کلام کیا جو نہ ہو دل میں دردِ عشق
بِسمل نہیں ہے تُو تو تڑپنا بھی چھوڑ دےarooz could not scan this line
شبنم کی طرح پھُولوں پہ رو، اور چمن سے چل
اس باغ میں قیام کا سودا بھی چھوڑ دے
ہے عاشقی میں رسم الگ سب سے بیٹھنا
بُت خانہ بھی، حرم بھی، کلیسا بھی چھوڑ دے
سوداگری نہیں، یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر! جزا کی تمنّا بھی چھوڑ دے
اچھّا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
جینا وہ کیا جو ہو نفَسِ غیر پر مدار
شہرت کی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دے
شوخی سی ہے سوالِ مکرّر میں اے کلیم!
شرطِ رضا یہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے
واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں
اقبالؔ کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.