Bang-e-Dara · 32 of 172

رخصت اے بزم جہاں

Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 37 of 42 lines

رُخصت اے بزمِ جہاں! سُوئے وطن جاتا ہوں مَیں

آہ! اس آباد ویرانے میں گھبراتا ہوں مَیں

بسکہ مَیں افسردہ دل ہوں، درخورِ محفل نہیں

تُو مرے قابل نہیں ہے، مَیں ترے قابل نہیں

قید ہے، دربارِ سُلطان و شبستانِ وزیر

توڑ کر نکلے گا زنجیرِ طلائی کا اسیر

گو بڑی لذّت تری ہنگامہ آرائی میں ہے

اجنبیّت سی مگر تیری شناسائی میں ہے

مدّتوں تیرے خود آراؤں سے ہم صحبت رہا

مدّتوں بے تاب موجِ بحر کی صورت رہاarooz could not scan this line

مدّتوں بیٹھا ترے ہنگامۂ عشرت میں مَیں

روشنی کی جُستجو کرتا رہا ظُلمت میں مَیں

مدّتوں ڈھُونڈا کِیا نظّارۂ گُل، خار میں

آہ، وہ یوسف نہ ہاتھ آیا ترے بازار میں

چشمِ حیراں ڈھُونڈتی اب اور نظّارے کو ہے

آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کو ہے

چھوڑ کر مانندِ بُو تیرا چمن جاتا ہوں مَیں

رُخصت اے بزمِ جہاں! سُوئے وطن جاتا ہوں مَیں

گھر بنایا ہے سکوتِ دامنِ کُہسار میں

آہ! یہ لذّت کہاں موسیقیِ گُفتار میں

ہم نشینِ نرگسِ شہلا، رفیقِ گُل ہوں مَیں

ہے چمن میرا وطن، ہمسایۂ بُلبل ہوں مَیںarooz could not scan this line

شام کو آواز چشموں کی سُلاتی ہے مجھے

صبح فرشِ سبز سے کوئل جگاتی ہے مجھے

بزمِ ہستی میں ہے سب کو محفل آرائی پسند

ہے دلِ شاعر کو لیکن کُنجِ تنہائی پسند

ہے جُنوں مجھ کو کہ گھبراتا ہوں آبادی میں مَیں

ڈھُونڈتا پھرتا ہوں کس کو کوہ کی وادی میں مَیں؟

شوق کس کا سبزہ زاروں میں پھراتا ہے مجھے؟

اور چشموں کے کناروں پر سُلاتا ہے مجھے؟

طعنہ زن ہے تُو کہ شیدا کُنجِ عُزلت کا ہوں مَیںarooz could not scan this line

دیکھ اے غافل! پیامی بزمِ قُدرت کا ہوں مَیں

ہم وطن شمشاد کا، قُمری کا مَیں ہم راز ہوں

اس چمن کی خامشی میں گوش بر آواز ہوں

کچھ جو سنتا ہوں تو اَوروں کو سُنانے کے لیے

دیکھتا ہوں کچھ تو اَوروں کو دِکھانے کے لیے

عاشقِ عُزلت ہے دل، نازاں ہوں اپنے گھر پہ مَیںarooz could not scan this line

خندہ زن ہوں مسندِ دارا و اسکندر پہ مَیں

لیٹنا زیرِ شجر رکھتا ہے جادُو کا اثر

شام کے تارے پہ جب پڑتی ہو رہ رہ کر نظر

عِلم کے حیرت کدے میں ہے کہاں اس کی نمود!

گُل کی پتّی میں نظر آتا ہے رازِ ہست و بودarooz could not scan this line

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.