Bang-e-Dara · 6 of 172

ایک مکڑا اور مکھی

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 38 of 48 lines

اک دن کسی مکھّی سے یہ کہنے لگا مکڑاarooz could not scan this line

اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا

لیکن مری کُٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت

بھُولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھّا

غیروں سے نہ مِلیے تو کوئی بات نہیں ہےarooz could not scan this line

اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا

آؤ جو مرے گھر میں تو عزّت ہے یہ میری

وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا

مکھّی نے سُنی بات جو مکڑے کی تو بولیarooz could not scan this line

حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا

اس جال میں مکھّی کبھی آنے کی نہیں ہےarooz could not scan this line

جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا، پھر نہیں اُترا

مکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھے

تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا

منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ

کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا

اُڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے

ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں بُرا کیا!

اِس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں

باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کُٹیا

لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے

دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا

مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے

ہر شخص کو ساماں یہ میّسر نہیں ہوتا

مکھّی نے کہا خیر، یہ سب ٹھیک ہے لیکنarooz could not scan this line

میں آپ کے گھر آؤں، یہ امّید نہ رکھنا

ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے

سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اُٹھ نہیں سکتا

مکڑے نے کہا دل میں، سُنی بات جو اُس کی

پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا

سَو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں

دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا

یہ سوچ کے مکھّی سے کہا اُس نے بڑی بی!arooz could not scan this line

اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رُتباarooz could not scan this line

ہوتی ہے اُسے آپ کی صورت سے محبّت

ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا

آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کَنیاںarooz could not scan this line

سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا

یہ حُسن، یہ پوشاک، یہ خوبی، یہ صفائی

پھر اس پہ قیامت ہے یہ اُڑتے ہوئے گانا

مکھی نے سُنی جب یہ خوشامد تو پسیجیarooz could not scan this line

بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا

انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں بُرا میں

سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھّا نہیں ہوتا

یہ بات کہی اور اُڑی اپنی جگہ سے

پاس آئی تو مکڑے نے اُچھل کر اُسے پکڑا

بھوکا تھا کئی روز سے، اب ہاتھ جو آئی

آرام سے گھر بیٹھ کے مکھّی کو اُڑایاarooz could not scan this line

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.