عشق اور موت
سُہانی نمودِ جہاں کی گھڑی تھی
تبسّم فشاں زندگی کی کلی تھی
کہیں مہر کو تاجِ زر مِل رہا تھا
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی
سِیَہ پیرہن شام کو دے رہے تھے
ستاروں کو تعلیمِ تابندگی تھی
کہیں شاخِ ہستی کو لگتے تھے پتّے
کہیں زندگی کی کلی پھُوٹتی تھی
فرشتے سِکھاتے تھے شبنم کو رونا
ہنسی گُل کو پہلے پہل آ رہی تھی
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو
خودی تَشنہ کامِ مئے بے خودی تھی
اُٹھی اوّل اوّل گھٹا کالی کالیarooz could not scan this line
کوئی حُور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی
زمیں کو تھا دعویٰ کہ مَیں آسماں ہوں
مکاں کہہ رہا تھا کہ مَیں لا مکاں ہوں
غَرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیاراarooz could not scan this line
کہ نظّارگی ہو سراپا نظاراarooz could not scan this line
ملَک آزماتے تھے پرواز اپنی
جبینوں سے نورِ ازل آشکارا
فرشتہ تھا اک، عشق تھا نام جس کا
کہ تھی رہبری اُس کی سب کا سہارا
فرشتہ کہ پُتلا تھا بے تابیوں کا
مَلک کا مَلک اور پارے کا پارا
پئے سیر فردوس کو جا رہا تھا
قضا سے مِلا راہ میں وہ قضا را
یہ پُوچھا ترا نام کیا، کام کیا ہے
نہیں آنکھ کو دید تیری گوارا
ہُوا سُن کے گویا قضا کا فرشتہ
اجل ہوں، مرا کام ہے آشکارا
اُڑاتی ہوں مَیں رختِ ہستی کے پُرزے
بُجھاتی ہوں مَیں زندگی کا شرارا
مری آنکھ میں جادوئے نیستی ہےarooz could not scan this line
پیامِ فنا ہے اسی کا اشارا
مگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسی
وہ آتش ہے مَیں سامنے اُس کے پارا
شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میں
وہ ہے نورِ مطلق کی آنکھوں کا تارا
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسُو
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا
سُنی عشق نے گفتگو جب قضا کی
ہنسی اُس کے لب پر ہوئی آشکارا
گری اُس تبسّم کی بجلی اجل پر
اندھیرے کا ہو نور میں کیا گزاراarooz could not scan this line
بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ
قضا تھی، شکارِ قضا ہو گئی وہ
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.