چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں
چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں
جھلک تیری ہویدا چاند میں، سُورج میں، تارے میں
بلندی آسمانوں میں، زمینوں میں تری پستی
روانی بحر میں، اُفتادگی تیری کنارے میںarooz could not scan this line
شریعت کیوں گریباں گیر ہو ذوقِ تکلّم کی
چھُپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے میں
جو ہے بیدار انساں میں وہ گہری نیند سوتا ہے
شجر میں، پھول میں، حیواں میں، پتھّر میں، ستارے میں
مجھے پھُونکا ہے سوزِ قطرۂ اشکِ محبّت نے
غضب کی آگ تھی پانی کے چھوٹے سے شرارے میں
نہیں جنسِ ثوابِ آخرت کی آرزو مجھ کو
وہ سوداگر ہُوں، مَیں نے نفع دیکھا ہے خسارے میں
سکوں ناآشنا رہنا اسے سامانِ ہستی ہے
تڑپ کس دل کی یا رب چھُپ کے آ بیٹھی ہے پارے میں
صدائے لن ترانی سُن کے اے اقبالؔ میں چُپ ہوں
تقاضوں کی کہاں طاقت ہے مجھ فُرقت کے مارے میں
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.