Bang-e-Dara · 51 of 172
نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
Allama Iqbal
Bahrمتقارب مثمن سالم
فعولن فعولن فعولن فعولن
arooz scans 12 of 12 lines
نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
تمھارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی!
تامّل تو تھا اُن کو آنے میں قاصد
مگر یہ بتا طرزِ انکار کیا تھی
کھِنچے خود بخود جانبِ طُور موسیٰؑ
کشش تیری اے شوقِ دیدار کیا تھی!
کہیں ذکر رہتا ہے اقبالؔ تیرا
فسوں تھا کوئی، تیری گُفتار کیا تھی