Bang-e-Dara · 114 of 172

انسان

Allama Iqbal
Bahrبحرِ زمزمہ/ متدارک مسدس مضاعف
فعْلن فَعِلن فعْلن فعْلن فَعِلن فعْلن
arooz scans 10 of 10 lines

منظر چَمنِستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا

محرومِ عمل نرگس مجبورِ تماشا ہے

رفتار کی لذّت کا احساس نہیں اس کو

فطرت ہی صنوبر کی محرومِ تمنّا ہے

تسلیم کی خُوگر ہے جو چیز ہے دُنیا میں

انسان کی ہر قوّت سرگرمِ تقاضا ہے

اس ذرّے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم

یہ ذرّہ نہیں، شاید سِمٹا ہُوا صحرا ہے

چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چَمنِستاں کی

یہ ہستیِ دانا ہے، بِینا ہے، توانا ہے

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.