Bang-e-Dara · 28 of 172

ز ہد اور رندی

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 49 of 54 lines

اک مولوی صاحب کی سُناتا ہوں کہانیarooz could not scan this line

تیزی نہیں منظور طبیعت کی دِکھانی

شُہرہ تھا بہت آپ کی صُوفی منَشی کا

کرتے تھے ادب اُن کا اعالی و ادانی

کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوّف میں شریعت

جس طرح کہ الفاظ میں مضمَر ہوں معانی

لبریز مئے زُہد سے تھی دل کی صراحی

تھی تہ میں کہیں دُردِ خیالِ ہمہ دانی

کرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنی

منظور تھی تعداد مُریدوں کی بڑھانی

مُدّت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرےarooz could not scan this line

تھی رند سے زاہد کی ملاقات پُرانی

حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پُوچھا

اقبالؔ، کہ ہے قُمریِ شمشادِ معانی

پابندیِ احکامِ شریعت میں ہے کیسا؟

گو شعر میں ہے رشکِ کلیمِؔ ہمَدانی

سُنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا

ہے ایسا عقیدہ اثَرِ فلسفہ دانی

ہے اس کی طبیعت میں تشُّیع بھی ذرا سا

تفضیلِ علیؓ ہم نے سُنی اس کی زبانی

سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخلarooz could not scan this line

مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اُڑانی

کچھ عار اسے حُسن فروشوں سے نہیں ہے

عادت یہ ہمارے شُعَرا کی ہے پُرانی

گانا جو ہے شب کو تو سحَر کو ہے تلاوت

اس رمز کے اب تک نہ کھُلے ہم پہ معانی

لیکن یہ سُنا اپنے مُریدوں سے ہے مَیں نے

بے داغ ہے مانندِ سحرَ اس کی جوانی

مجموعۂ اضداد ہے، اقبالؔ نہیں ہے

دل دفترِ حکمت ہے، طبیعت خفَقانی

رِندی سے بھی آگاہ، شریعت سے بھی واقف

پُوچھو جو تصوّف کی تو منصور کا ثانی

اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھُلتی

ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی

القصّہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے

تا دیر رہی آپ کی یہ نَغْز بیانی

اس شہر میں جو بات ہو، اُڑ جاتی ہے سب میں

مَیں نے بھی سُنی اپنے اَحِبّا کی زبانیarooz could not scan this line

اک دن جو سرِ راہ مِلے حضرتِ زاہد

پھر چھِڑ گئی باتوں میں وہی بات پُرانی

فرمایا، شکایت وہ محبّت کے سبب تھی

تھا فرض مرا راہ شریعت کی دِکھانی

مَیں نے یہ کہا کوئی گِلہ مجھ کو نہیں ہے

یہ آپ کا حق تھا ز رہِ قُربِ مکانی

خم ہے سرِ تسلیم مرا آپ کے آگے

پِیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی

گر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقت

پیدا نہیں کچھ اس سے قصورِ ہمہ دانی

مَیں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا

گہرا ہے مرے بحرِ خیالات کا پانیarooz could not scan this line

مجھ کو بھی تمنّا ہے کہ ’اقبال‘ کو دیکھوں

کی اس کی جُدائی میں بہت اشک فشانی

اقبالؔ بھی ’اقبال‘ سے آگاہ نہیں ہے

کچھ اس میں تمسخر نہیں، واللہ نہیں ہے

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.