Bang-e-Dara · 77 of 172

نوائے غم

Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
arooz scans 16 of 16 lines

زندگانی ہے مری مثلِ ربابِ خاموش

جس کی ہر رنگ کے نغموں سے ہے لبریز آغوش

بربطِ کون و مکاں جس کی خموشی پہ نثار

جس کے ہر تار میں ہیں سینکڑوں نغموں کے مزار

محشرستانِ نوا کا ہے امیں جس کا سکُوت

اور منّت کشِ ہنگامہ نہیں جس کا سکُوت

آہ! اُمیّد محبت کی بر آئی نہ کبھی

چوٹ مضراب کی اس ساز نے کھائی نہ کبھی

مگر آتی ہے نسیمِ چمنِ طُور کبھی

سمتِ گردُوں سے ہوائے نفَسِ حُور کبھی

چھیڑ آہستہ سے دیتی ہے مرا تارِ حیات

جس سے ہوتی ہے رِہا رُوحِ گرفتارِ حیات

نغمۂ یاس کی دھیمی سی صدا اُٹھتی ہے

اشک کے قافلے کو بانگِ درا اُٹھتی ہے

جس طرح رفعتِ شبنم ہے مذاقِ رم سے

میری فطرت کی بلندی ہے نوائے غم سے

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.