Bang-e-Dara · 58 of 172

جنھیں مَیں ڈھُونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
arooz scans 31 of 36 lines

جنھیں مَیں ڈھُونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی

مکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں

اگر کچھ آشنا ہوتا مذاقِ جبَہہ سائی سے

تو سنگِ آستانِ کعبہ جا مِلتا جبینوں میں

کبھی اپنا بھی نظّارہ کِیا ہے تو نے اے مجنوں

کہ لیلیٰ کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں

مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں

مگر گھڑیاں جُدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں

مجھے روکے گا تُو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے

کہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں

چھُپایا حُسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے

وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میںarooz could not scan this line

جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفَس ان کی

الٰہی! کیا چھُپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میںarooz could not scan this line

تمنّا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو

یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میںarooz could not scan this line

ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کوarooz could not scan this line

وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں

کسی ایسے شرر سے پھُونک اپنے خرمنِ دل کو

کہ خورشیدِ قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں

محبّت کے لیے دل ڈھُونڈ کوئی ٹُوٹنے والا

یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں

سراپا حُسن بن جاتا ہے جس کے حُسن کا عاشق

بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسیِنوں میں

پھڑک اُٹھّا کوئی تیری ادائے ’مَا عَرَفْنا‘ پرarooz could not scan this line

ترا رُتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں

نمایاں ہو کے دِکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا

بہت مدّت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں

خموش اے دل!، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا

ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں

بُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا

کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں میں

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.