Bang-e-Dara · 93 of 172

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا

Allama Iqbal
Bahrجمیل مثمن سالم
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن
arooz scans 30 of 34 lines

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا

سکُوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگا

گزر گیا اب وہ دَور ساقی کہ چھُپ کے پیتے تھے پینے والے

بنے گا سارا جہان مے‌خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

کبھی جو آوارۂ جُنوں تھے، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے

برہنہ پائی وہی رہے گی، مگر نیا خارزار ہو گا

سُنا دیا گوشِ منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر

جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا، پھر اُستوار ہو گا

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا

سُنا ہے یہ قُدسیوں سے مَیں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

کِیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں

تو پیرِ میخانہ سُن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے، خوار ہو گا

دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی

جوشاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گاarooz could not scan this line

سفینۂ برگِ گُل بنا لے گا قافلہ مُورِ ناتواں کا

ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا

چمن میں لالہ دِکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو

یہ جانتا ہے کہ اس دِکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

جو ایک تھا اے نگاہ تُو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا

یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہو گاarooz could not scan this line

کہا جو قُمری سے مَیں نے اک دن، یہاں کے آزاد پا بہ گِل ہیں

تو غُنچے کہنے لگے، ہمارے چمن کا یہ رازدار ہو گا

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھِرتے ہیں مارے مارے

میں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

یہ رسمِ بزمِ فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبشِ نظر بھی

رہے گی کیا آبرُو ہماری جو تُو یہاں بے قرار ہو گا

میں ظُلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کوarooz could not scan this line

شررفشاں ہوگی آہ میری، نفَس مرا شعلہ بار ہو گا

نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدّعا تیری زندگی کا

تو اک نفَس میں جہاں سے مِٹنا تجھے مثالِ شرار ہو گا

نہ پُوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا، ابھی وہی کیفیت ہے اُس کیarooz could not scan this line

کہیں سرِ رہ گزار بیٹھا ستم کشِ انتظار ہو گا

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.