طلوع اسلام
دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفُق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی
عُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیarooz could not scan this line
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیarooz could not scan this line
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابیarooz could not scan this line
اثر کچھ خواب کا غُنچوں میں باقی ہے تو اے بُلبل!
“نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی”arooz could not scan this line
تڑپ صحنِ چمن میں، آشیاں میں، شاخساروں میں
جُدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیرِ سیمابی
وہ چشمِ پاکبیں کیوں زینتِ برگستواں دیکھےarooz could not scan this line
نظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابی
ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کر دے
چمن کے ذرّے ذرّے کو شہیدِ جُستجو کر دے
سرشکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہؑ کے دریا میں ہوں گے پھر گُہر پیدا
کتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں تُرکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بُوئے گُل سے اپنا ہمسفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہے
کہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحَر پیدا
جہاں بانی سے ہے دُشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خُوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہوَر پیداarooz could not scan this line
نوا پیرا ہو اے بُلبل کہ ہو تیرے ترنّم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
ترے سینے میں ہے پوشیدہ رازِ زندگی کہہ دے
مسلماں سے حدیثِ سوز و سازِ زندگی کہہ دے
خدائے لم یزل کا دستِ قُدرت تُو، زباں تُو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گُماں تو ہے
پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے
مکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تُو، جاوداں تو ہے
حنا بندِ عروسِ لالہ ہے خُونِ جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے، معمارِ جہاں تو ہے
تری فطرت امیں ہے ممکناتِ زندگانی کی
جہاں کے جوہرِ مُضمَر کا گویا امتحاں تو ہے
جہانِ آب و گِل سے عالَمِ جاوید کی خاطر
نبوّت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہے
یہ نکتہ سرگزشتِ مِلّتِ بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوامِ زمینِ ایشیا کا پاسباں تو ہے
سبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخُوّت کی جہاںگیری، محبّت کی فراوانیarooz could not scan this line
بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی
میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک!
ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہستانیarooz could not scan this line
گمان آبادِ ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قِندیلِ رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فقرِ بُوذرؓ، صِدقِ سلمانیؓ
ہُوئے احرارِ مِلّت جادہ پیما کس تجمّل سے
تماشائی شگافِ در سے ہیں صدیوں کے زِندانی
ثباتِ زندگی ایمانِ مُحکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تُورانیarooz could not scan this line
جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیداarooz could not scan this line
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زور بازو کا!
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
ولایت، پادشاہی، علمِ اشیا کی جہاںگیریarooz could not scan this line
یہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریں
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہَوس چھُپ چھُپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہے
حذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں
حقیقت ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نُوری ہو
لہُو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چِیریں
یقیں محکم، عمل پیہم، محبّت فاتحِ عالم
جہادِ زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
چہ باید مرد را طبعِ بلندے، مشربِ نابے
دلِ گرمے، نگاہِ پاک بینے، جانِ بیتابے
عقابی شان سے جھپٹے تھے جو، بے بال و پر نکلےarooz could not scan this line
ستارے شام کے خُونِ شفَق میں ڈُوب کر نکلے
ہُوئے مدفونِ دریا زیرِ دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو، بن کر گُہر نکلے
غبارِ رہ گزر ہیں، کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو، اِکسیر گر نکلے
ہمارا نرم رو قاصد پیامِ زندگی لایا
خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے
حرم رُسوا ہُوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے
جوانانِ تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے
زمیں سے نُوریانِ آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر، پائندہ تر، تابندہ تر نکلے
جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈُوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈُوبے اِدھر نکلے
یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ مِلّت ہے
یہی قوّت ہے جو صورت گرِ تقدیر مِلّت ہے
تُو رازِ کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا
یہ ہندی، وہ خُراسانی، یہ افغانی، وہ تُورانی
تُو اے شرمندۂ ساحل! اُچھل کر بے کراں ہو جا
غبار آلودۂ رنگ و نَسب ہیں بال و پر تیرے
تُو اے مُرغِ حرم! اُڑنے سے پہلے پَرفشاں ہو جاarooz could not scan this line
خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہےarooz could not scan this line
نکل کر حلقۂ شام و سحَر سے جاوداں ہو جا
مَصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
شبستانِ محبّت میں حریر و پرنیاں ہو جا
گزر جا بن کے سیلِ تُند رَو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جُوئے نغمہ خواں ہو جا
ترے علم و محبّت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نَوا کوئی
ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے
نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھُوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو
ہوَس کے پنجۂ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہے
تدبّر کی فسُوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدّن کی بِنا سرمایہ داری ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی، جہنّم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نُوری ہے نہ ناری ہے
خروش آموزِ بُلبل ہو، گِرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تُو اس گُلِستاں کے واسطے بادِ بہاری ہے
پھر اُٹھّی ایشیا کے دل سے چنگاری محبّت کی
زمیں جولاں گہِ اطلس قبایانِ تتاری ہےarooz could not scan this line
بیا پیدا خریدارست جانِ ناتوانے راarooz could not scan this line
“پس از مدّت گذار افتاد بر ما کاروانے را”arooz could not scan this line
بیا ساقی نواے مرغِ زار از شاخسار آمدarooz could not scan this line
بہار آمد نگار آمد، نگار آمد قرار آمد
کشید ابرِ بہاری خیمہ اندر وادی و صحراarooz could not scan this line
صداے آبشاراں از فرازِ کوہسار آمدarooz could not scan this line
سرت گردم تو ہم قانونِ پیشیں ساز دہ ساقی
کہ خیلِ نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد
کنار از زاہداں برگیر و بےباکانہ ساغر کشarooz could not scan this line
پس از مدّت ازیں شاخِ کہن بانگِ ہزار آمد
بہ مشتاقاں حدیثِ خواجۂؐ بدر و حنین آورarooz could not scan this line
تصرّف ہاے پنہانش بچشمم آشکار آمدarooz could not scan this line
دگر شاخِ خلیلؑ از خُونِ ما نم ناک می گردد
ببازارِ محبّت نقدِ ما کامل عیار آمدarooz could not scan this line
سرِ خاکِ شہیدے برگہاے لالہ می پاشمarooz could not scan this line
کہ خونش با نہالِ مِلّتِ ما سازگار آمد
“بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیمarooz could not scan this line
فلک را سقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم”arooz could not scan this line
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.