Bang-e-Dara · 53 of 172
لائوں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 14 of 14 lines
لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
بجلیاں بے تاب ہوں جن کو جَلانے کے لیے
وائے ناکامی، فلک نے تاک کر توڑا اُسے
میں نے جس ڈالی کو تاڑا آشیانے کے لیے
آنکھ مل جاتی ہے ہفتاد و دو ملّت سے تری
ایک پیمانہ ترا سارے زمانے کے لیے
دل میں کوئی اس طرح کی آرزو پیدا کروں
لوٹ جائے آسماں میرے مٹانے کے لیے
جمع کر خرمن تو پہلے دانہ دانہ چُن کے تُو
آ ہی نکلے گی کوئی بجلی جلانے کے لیے
پاس تھا ناکامیِ صیّاد کا اے ہم صفیر
ورنہ مَیں، اور اُڑ کے آتا ایک دانے کے لیے!
اس چمن میں مرغِ دل گائے نہ آزادی کا گیت
آہ! یہ گُلشن نہیں ایسے ترانے کے لیے