Two short forms, every line scanned
رباعیات
Rubaiyat — four lines in the rubai’s own metre
A rubai is four misras — the first, second and fourth rhyme — in a metre that belongs to it alone: the 24 awzan of bahr-e-hazaj, in two families, akhrab (opening مفعول) and akhram (opening مفعولن). Each of its four lines may take a different one of the 24. arooz reads every line against all of them and shows, under the line, the wazn it found; where it found none, the line carries a small mark — an admission about arooz, never a judgement on the verse.
535 rubais · 36 poets · 2,140 lines
arooz scans 86.5% of the lines
Contents
Mirza Rafi Sauda (1713–1781)
3Mir Taqi Mir (1723–1810)
90- 4آئی نہ کبھو رسم تلطف تم کو4/4
- 5آب حیواں نہیں گوارا ہم کو2/4
- 6اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے4/4
- 7اترا تھا غریبانہ کنارے آکر2/4
- 8افسوس ہے عمر ہم نے یوں ہی کھوئی3/4
- 9اوقات لڑکپن کے گئے غفلت میں4/4
- 10اندوہ کھپے عشق کے سارے دل میں4/4
- 11ایسا نہ ہوا کہ ہم نے شادی کی ہو4/4
- 12اے میرؔ کہاں دل کو لگایا تونے4/4
- 13بس حرص و ہوا سے میرؔ اب تم بھاگو4/4
- 14تجھ رہ سے محال ہے اٹھانا مجھ کو3/4
- 15تاچند تلف میرؔ حیا سے ہوگا4/4
- 16جاناں نے ہمیں کبھو نہ جانا افسوس4/4
- 17حسن ظاہر بھی ہے ہمارا دلخواہ1/4
- 18حاصل نہیں دنیا سے بجز دل ریشی4/4
- 19راضی ٹک آپ کو رضا پر رکھیے4/4
- 20شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کا4/4
- 21مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا3/4
- 22مستی نہ کر اے میرؔ اگر ہے ادراک2/4
- 23مسجد میں تو شیخ کو خروشاں دیکھا4/4
- 24میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر1/4
- 25میرؔ اس سے ملے کہ جو ملا بھی نہ کبھو4/4
- 26پردہ نہ اٹھاؤ بے حجابی نہ کرو3/4
- 27پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہش4/4
- 28پیغمبر حق کہ حق دکھایا اس کا4/4
- 29کاہے کو کوئی خراب خواری ہوتا4/4
- 30چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سے4/4
- 31گذرا یہ کہ شکوہ و شکایت کیجے4/4
- 32گو میرؔ کہ احوال نہایت ہے سقیم3/4
- 33گو روکش ہفتاد و دو ملت ہم ہیں3/4
- 34ہجراں میں کیا سب نے کنارہ آخر4/4
- 35اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے1/4
- 36اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزار2/4
- 37ابرو سے مہ نو نے کہاں خم مارا4/4
- 38اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں3/4
- 39اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔ4/4
- 40اک مرتبہ دل پہ اضطرابی آئی4/4
- 41اک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے4/4
- 42اے تازہ نہال عاشقی کے مالی4/4
- 43بت خانے سے دل اپنے اٹھائے نہ گئے3/4
- 44تسبیح کو مدتوں سنبھالا ہم نے3/4
- 45تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگا4/4
- 46جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک4/4
- 47جس وقت شروع یہ حکایت ہوگی4/4
- 48حیرت ہے کہ ہو رقیب محرم تیرا4/4
- 49حیرت کی یہ معرکے کی جا ہے بارے4/4
- 50دامن عزلت کا اب لیا ہے میں نے3/4
- 51دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زرد3/4
- 52دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے4/4
- 53دل جن کے بجا ہیں ان کو آتی ہے خواب4/4
- 54دل جان جگر آہ جلائے کیا کیا3/4
- 55دل تجھ پہ جلے نہ کیونکے میرا بے تاب3/4
- 56دل غم سے ہوا گداز سارا اللہ4/4
- 57دن فکر دہن میں اس کے جاتا ہے ہمیں4/4
- 58دنیا میں بڑا روگ جو ہے الفت ہے4/4
- 59زانو پہ قد خم شدہ سر کو لایا2/4
- 60سن سوز دروں کو اس کے جلیے بھنیے2/4
- 61طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے4/4
- 62لو یار ستمگر نے لڑائی کی ہے4/4
- 63محشر میں اگر یہ آتشیں دم ہوگا4/4
- 64مدت کے جو بعد جی بحال آتا ہے4/4
- 65ملیے اس شخص سے جو آدم ہووے3/4
- 66ملنا دلخواہ اب خیال اپنا ہے4/4
- 67وہ عہد گیا کہ جور اس کے سہیے4/4
- 68پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گا4/4
- 69کو عمر کہ اب فکر امیری کریے4/4
- 70کوچے میں ترے آن کے اڑ بھی بیٹھے4/4
- 71کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر4/4
- 72کی حسن نے تجھ سے بے وفائی آخر4/4
- 73کیا تم سے کہوں میرؔ کہاں تک روؤں4/4
- 74کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلے3/4
- 75کیا میرؔ کا مذکور کریں سب ہے جہل3/4
- 76کیا میرؔ تجھے جان ہوئی تھی بھاری4/4
- 77کیا کیا ہیں سلوک بد فقط غم ہی نہیں3/4
- 78کیا کیا اے عاشقی ستایا تونے3/4
- 79کیا کہیے خراب ہوتے ہم کیسے پھرے4/4
- 80کیا کہیے ادا بتوں سے کیا ہوتی ہے4/4
- 81کیسا احساں ہے خلق عالم کرنا2/4
- 82ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری4/4
- 83ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے4/4
- 84ہر روز نیا ایک تماشا دیکھا4/4
- 85ہرچند کہ طاعت میں ہوا ہے تو پیر4/4
- 86ہرچند کہ اے مہ اب تمامی ہے گی3/4
- 87ہر لحظہ رلاتا ہے کڑھاتا ہے مجھے4/4
- 88ہم میرؔ سے کہتے ہیں نہ تو رویا کر4/4
- 89ہم میرؔ برے اتنے ہیں وہ اتنا خوب4/4
- 90ہم سے تو بتوں کی وہ حیا کی باتیں4/4
- 91ہیں گوکہ سبھی تمھاری پیاری باتیں4/4
- 92ہیں قید قفس میں تنگ یوں تو کب کے4/4
- 93یکسو یہ کہ عیش و کامرانی کرتے4/4
Mir Hasan (1727–1786)
4Nazeer Akbarabadi (1735–1830)
18- 98آئینہ جو ہاتھ اس کے نے تا دیر لیا4/4
- 99ساقی سے جو ہم نے مے کا اک جام لیا3/4
- 100مکھڑے کو جو اس کے ہم نے جا کر دیکھا3/4
- 101پس اس کے گئے سپر جو ہم کر سینہ3/4
- 102ہے چاہ نے اس کی جب سے کی جا دل میں4/4
- 103اس زلف نے ہم سے لے کے دل بستہ کیا3/4
- 104اس شوخ کو ہم نے جس گھڑی جا دیکھا4/4
- 105اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نے3/4
- 106دل دیکھ اسے جس گھڑی بے تاب ہوا4/4
- 107رکھتی ہے جو خوش چاہ تمہاری ہم کو2/4
- 108رکھتے ہیں جو ہم چاہ تمہاری دل میں3/4
- 109محبوب نے پیرہن میں جب عطر ملا4/4
- 110ناصح نہ سنا سخن مجھے جس تس کے4/4
- 111کیا حال اب اس سے اپنے دل کا کہئے3/4
- 112ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیر4/4
- 113ہم دل سے جو چاہتے ہیں اے جان تمہیں3/4
- 114ہوں کیوں نہ بتوں کی ہم کو دل سے چاہیں4/4
- 115یاد آتی ہیں جب ہمیں وہ پہلی چاہیں4/4
Mirza Ghalib (1797–1869)
30- 116آتش بازی ہے جیسے شغل اطفال4/4
- 117اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ3/4
- 118اے کاش بتاں کا خنجر سینہ شگاف2/4
- 119بے گریہ کمال ترجبینی ہے مجھے3/4
- 120حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے4/4
- 121دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ3/4
- 122رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے4/4
- 123سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں؟4/4
- 124سامان ہزار جستجو یعنی دل4/4
- 125مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل3/4
- 126گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میں3/4
- 127یاران نبی میں تھی لڑائی کس میں4/4
- 128یاران نبی سے رکھ تولّا باللہ1/4
- 129یاران رسول یعنی اصحاب کبار3/4
- 130اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں، بلکہ سِوا4/4
- 131اِن سیم کے بِیجوں کو کوئی کیا جانے3/4
- 132اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں4/4
- 133اے منشیِ خیرہ سر سخن ساز نہ ہو3/4
- 134اے روشنی دیدہ شہاب الدین خاں3/4
- 135بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال4/4
- 136بھیجی ہے جو مجھ کو شاہ جمجاہ نے دال3/4
- 137دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی4/4
- 138دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج3/4
- 139دل سخت نژند ہوگیا ہے گویا2/4
- 140شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا4/4
- 141گلخن شرر اہتمام بستر ہے آج4/4
- 142ہر چند کہ دوستی میں کامل ہونا4/4
- 143ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے4/4
- 144ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہم4/4
- 145ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لیے4/4
Momin Khan Momin (1800–1852)
4Mir Anees (1803–1874)
52- 150آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشا3/4
- 151آدم کو یہ تحفہ یہ ہدیہ نہ ملا3/4
- 152اتنا نہ غرور کر کہ مرنا ہے تجھے4/4
- 153بادل آ کے رو گئے ہائے غضب3/4
- 154برہم ہے جہاں عجب تلاطم ہے آج4/4
- 155بست و یکم ماہ محرم ہے آج3/4
- 156دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغ4/4
- 157دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب4/4
- 158راہی طرف عالم بالا ہوں میں3/4
- 159رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے4/4
- 160سر کھینچ نہ شمشیر کشیدہ کی طرح4/4
- 161شبیر کا غم یہ جس کے دل پر ہوگا4/4
- 162عریاں سر خاتون زمن ہے اب تک3/4
- 163فرصت کوئی ساعت نہ زمانے سے ملی4/4
- 164ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہے3/4
- 165اب وقت سرور و فرحت اندوزی ہےاب وقت سرور او فرحت اندوزی ہے3/4
- 166اب خواب سے چونک وقت بیداری ہے4/4
- 167اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میں4/4
- 168اب گرم خبر موت کے آنے کی ہے4/4
- 169اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں4/4
- 170اصحاب نے پوچھا جو نبی کو دیکھا4/4
- 171اعلیٰ رتبے میں ہر بشر سے پایا4/4
- 172انجام پہ اپنے آہ و زاری کر تو4/4
- 173انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو3/4
- 174اکبر نے جو گھر موت کا آباد کیا3/4
- 175اے شاہ کے غم میں جان کھونے والو4/4
- 176اے بخت رسا سوئے نجف راہی کر3/4
- 177بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب3/4
- 178بے جا نہیں مدح شہ میں غرا میرا3/4
- 179بے دینوں کو مرتضیٰ نے ایماں بخشا2/4
- 180تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد4/4
- 181جس پر کہ نظر لطف کی شبیر کریں4/4
- 182جو مرتبہ احمد کے وصی کا دیکھا4/4
- 183جو چشم غم شہ میں سدا روتی ہے2/4
- 184داماد رسول کی شہادت ہے آج4/4
- 185دل نے غم بے حساب کیا کیا دیکھا4/4
- 186دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی4/4
- 187ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک4/4
- 188غفلت میں نہ کھو عمر کہ پچھتائے گا3/4
- 189مے خانۂ کوثر کا شرابی ہوں میں3/4
- 190پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو4/4
- 191کس طرح کرے نہ ایک عالم افسوس4/4
- 192کچھ ملک عدم میں رنج کا نام نہ تھا3/4
- 193کیا دست مژہ کو ہاتھ آئی تسبیح4/4
- 194کیوں کر دل غمزدہ نہ فریاد کرے4/4
- 195گلزار جہاں سے باغ جنت میں گئے4/4
- 196گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہے3/4
- 197گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں4/4
- 198ہر چند کہ خستہ و حزیں ہے آواز4/4
- 199ہر غنچے سے شاخ گل ہے کیوں نذر بکف1/4
- 200ہشیار ہے سب سے با خبر ہے جب تک4/4
- 201ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکل3/4
Munir Shikohabadi (1814–1880)
3Qalaq Meerathi (1835–1880)
51- 205اس بزم سے میدان میں جانا ہوگا4/4
- 206افسوس تری وضع پہ آتا ہے قلقؔ3/4
- 207افسانۂ یار بہر وصلت ہے لذیذ4/4
- 208اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکال4/4
- 209اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کون3/4
- 210تا ماہ صیام ہوئے باب امید2/4
- 211خورشید پہ جس وقت زوال آتا ہے3/4
- 212دیں ہی بے ہوش ہے نہ دنیا بے ہوش3/4
- 213زہاد کا غفلت سے ہے اوراد و سجود2/4
- 214صد حیف کہ مے نوش ہوئے ہم کیسے4/4
- 215لازم ہے کہ فکر رخ دلبر چھوڑوں3/4
- 216منہ گیسوئے پر خم سے نہ موڑوں کب تک2/4
- 217گاہے تو کرم ہم پہ بھی فرمائیں آپ3/4
- 218ہے مہر کرم گناہ گاری میری4/4
- 219یاں نفس کی شوخی سے ہے مجنوں لیلیٰ3/4
- 220اس خطے کی جا عالم بالا میں نہیں3/4
- 221اس وقت زمانے میں بہم ایسے ہیں4/4
- 222اس عہد میں احتساب ایمانی کیا3/4
- 223اے ابر کہاں تک ترے رستے دیکھیں3/4
- 224بانو نے کہا قطرہ نہیں شیر کا ہے3/4
- 225بے برگ و نوا کی شعر خوانی معلوم3/4
- 226جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شے4/4
- 227جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھی4/4
- 228دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائے3/4
- 229دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹ3/4
- 230دل دیر گزاری سے ہے آوند نمک3/4
- 231دنیا میں قلقؔ کیا ہے سراسر ہے خاک4/4
- 232دنیا کا تمام کارخانہ ہے عبث4/4
- 233دنیا کا عجب رنگ سے دیکھا انگیز3/4
- 234شہہ کہتے تھے افسوس نہ کہنا مانے2/4
- 235غیروں کو شب وصل بلانے سے غرض4/4
- 236فانی کے ہے نزدیک بقا کو بھی فنا4/4
- 237لو جائیے بس خدا ہمارا حافظ4/4
- 238محراب و مصلیٰ اور زاہد بھی وہی4/4
- 239مرمر کے پئے رنج و بلا جیتے ہیں4/4
- 240ناصح کی شکایت وہی زخم جاں ہے3/4
- 241وہ وقت شباب وہ زمانہ نہ رہا4/4
- 242کس طرح کہوں آ بھی کہیں عذر نہ کر4/4
- 243کس واسطے دی تھیں ہمیں یا رب آنکھیں4/4
- 244کل تک تھی خلد خانہ زاد دہلی1/4
- 245کیا ذکر وفا جفا کسی سے نہ بنی4/4
- 246کیا جانیے الفت کا ہے کس سے آغاز4/4
- 247کیا لینے سوئے جاہ و حشم جائیں گے4/4
- 248گردن کو جھکا دیتا ہے ادنیٰ احسان3/4
- 249ہر زخم جگر کھایا ہے دل پر تن کر4/4
- 250ہر روز خوشی ہے شب غم سے پامال2/4
- 251ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجر3/4
- 252ہم کون ہیں اہتمام کرنے والےہم کوں ہیں اہتمام کرنے والے4/4
- 253ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غم3/4
- 254یہ شہر بلند عالم بالا سے تھا3/4
- 255یہ وہم دوئی دل سے جدا کرنا تھا4/4
Altaf Hussain Hali (1837–1914)
10- 256انقلاب روزگاربس بس کے ہزاروں گھر اجڑ جاتے ہیں4/4
- 257سختی کا جواب نرمی ہےفتنہ کو جہاں تلک ہو دیجے تسکیں4/4
- 258عشقاے عشق کیا تو نے گھرانوں کو تباہ4/4
- 259مرض پیری لا علاج ہےاب ضعف کے پنجہ سے نکلنا معلوم4/4
- 260موجودہ ترقی کا انجامپوچھا جو کل انجام ترقیٔ بشر4/4
- 261مکر و ریاحالیؔ رہ راست جو کہ چلتے ہیں سدا4/4
- 262وقت کی مساعدتاے وقت بگاڑ کا ہے سب کے چارہ4/4
- 263جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہے4/4
- 264ریفارم کی حددھونے کی ہے اے رفارمر جا باقی3/4
- 265مخالفت کا جواب خاموشی سے بہتر نہیںحق بول کے اہل شر سے اڑنا نہ کہیں4/4
Ismail Meeruthi (1844–1917)
56- 266آیا ہوں میں جانب عدم ہستی سے3/4
- 267الحق کہ نہیں ہے غیر ہرگز موجود4/4
- 268افسردگی اور گرم جوشی بھی غلط4/4
- 269با ایں ہمہ سادگی ہے پرکاری بھی3/4
- 270برہان و دلیل عین گمراہی ہے3/4
- 271بدلا نہیں کوئی بھیس ناچاری سے4/4
- 272بندہ ہوں تو اک خدا بناؤں اپنا4/4
- 273تاریک ہے رات اور دنیا ذخار3/4
- 274تیزی نہیں منجملۂ اوصاف کمال4/4
- 275حقا کہ بلند ہے مقام اکبر0/4
- 276حق ہے تو کہاں ہے پھر مجال باطل0/4
- 277ساقی و شراب و جام و پیمانہ کیا3/4
- 278عید رمضاں ہے آج با عیش و سرور3/4
- 279عید قرباں ہے آج اے اہل ہمہم3/4
- 280قلاش ہے قوم تو پڑھے گی کیوں کر3/4
- 281لاکھوں چیزیں بنا کے بھیجیں انگریز2/4
- 282مجموعۂ خار و گل ہے زیب گلزار2/4
- 283مقصود ہے قید جستجو سے باہر4/4
- 284مکشوف ہوا کہ دید حیرانی ہے4/4
- 285چوپائے کی طرح تو کتابوں سے نہ لد4/4
- 286گر روح نہ پابند تعین ہوتی4/4
- 287گر نیک دلی سے کچھ بھلائی کی ہے4/4
- 288گر جور و جفا کرے تو انعام سمجھ4/4
- 289ہے شکر درست اور شکایت زیبا3/4
- 290ہے عشق سے حسن کی صفائی ظاہر3/4
- 291یا رب کوئی نقش مدعا بھی نہ رہے4/4
- 292اسراف سے احتراز اگر فرماتے4/4
- 293اک عالم خواب خلق پر طاری ہے4/4
- 294اے بے خبری کی نیند سونے والو4/4
- 295اے بار خدا یہ شور و غوغا کیا ہے3/4
- 296بے کار نہ وقت کو گزارو یارو4/4
- 297تھا رنگ بہار بے نوائی کہ نہ تھا3/4
- 298توحید کی راہ میں ہے ویرانۂ سخت4/4
- 299جب تک کہ سبق ملاپ کا یاد رہا4/4
- 300جب گوئے زمیں نے اس پہ ڈالا سایہ3/4
- 301جس درجہ ہو مشکلات کی طغیانی3/4
- 302جو تیز قدم تھے وہ گئے دور نکل3/4
- 303جو صاحب مکرمت تھے اور دانش مند4/4
- 304جو چاہئے وہ تو ہے ازل سے موجود4/4
- 305دنیا کو نہ تو قبلۂ حاجات سمجھ4/4
- 306دنیا کا نہ کھا فریب ویراں ہے یہ3/4
- 307دیکھا تو کہیں نظر نہ آیا ہرگز4/4
- 308عاجز ہے خیال اور تفکر حیراں4/4
- 309پر شور الفت کی ندا ہے اب بھی2/4
- 310پانی میں ہے آگ کا لگانا دشوار3/4
- 311کافر کو ہے بندگی بتوں کی غم خوار4/4
- 312ڈھونڈا کرے کوئی لاکھ کیا ملتا ہے4/4
- 313کہتے ہیں سبھی مسدام اللہ اللہ3/4
- 314کہتے ہیں جو اہل عقل ہیں دور اندیش4/4
- 315کیا کہتے ہیں اس میں مفتیان اسلام3/4
- 316کیفیت و ذوق اور ذکر و اوراد4/4
- 317ہر خواہش و عرض و التجا سے توبہ4/4
- 318ہوتی نہیں فکر سے کوئی افزائش4/4
- 319ہے بار خدا کہ عالم آرا تو ہے4/4
- 320یہ قول کسی بزرگ کا سچا ہے4/4
- 321یہ مسئلۂ دقیق سنئے ہم سے4/4
Akbar Allahabadi (1846–1921)
40- 322افسوس سفید ہو گئے بال ترے3/4
- 323افسوس ہے بد گماں کی آزادی پر3/4
- 324الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی4/4
- 325افسوس ان پر فلک نے پایا قابو4/4
- 326حاسد تجھ پر اگر حسد کرتا ہے4/4
- 327در پر مظلوم اک پڑا روتا ہے3/4
- 328دولت بھی ہے فلسفہ بھی ہے جاہ بھی ہے1/4
- 329رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوا3/4
- 330سید صاحب سکھا گئے ہیں جو شعور3/4
- 331سچ ہے کہ انہوں نے ملک لے رکھا ہے2/4
- 332طاقت وہ ہے با اثر جو سلطانی ہے3/4
- 333علم و حکمت میں ہو اگر خواہش فیم4/4
- 334مسکین گدا ہو یا ہو شاہ ذی جاہ4/4
- 335پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہو3/4
- 336ہمدرد ہوں سب یہ لطف آبادی ہے3/4
- 337ہے صاف عیاں حرم سرا کا مطلب2/4
- 338اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑی2/4
- 339اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیں3/4
- 340اسمال نہیں گریٹ ہونا اچھا3/4
- 341اکبرؔ مجھے شک نہیں تیری تیزی میں1/4
- 342بھائے جو نگاہ کو وہی رنگ اچھا4/4
- 343تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو3/4
- 344جب تک ہے ہم میں قومی خصلت باقی3/4
- 345جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیں3/4
- 346دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیں4/4
- 347دنیا کرتی ہے آدمی کو برباد3/4
- 348روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی4/4
- 349رکتا نہیں انقلاب چارا کیا ہے4/4
- 350رکھو جو مقابل اس کے سارا عالم3/4
- 351سنتا نہیں کچھ کسی سے بڑھ بڑھ کے سوا4/4
- 352عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاش4/4
- 353شیطان سے دل کو ربط ہو جاتا ہے4/4
- 354غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا4/4
- 355لفظوں کے چمن بھی اس میں کھل جاتے ہیں4/4
- 356لے لے کے قلم کے لوگ بھالے نکلے4/4
- 357کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے3/4
- 358کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایا4/4
- 359ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نے1/4
- 360ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کی4/4
- 361ہے حرص و ہوس کے فن کی مجھ کو تکمیل3/4
Shad Azimabadi (1846–1927)
19- 362اخلاق سے جہل علم و فن سے غافل4/4
- 363ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گے4/4
- 364بدلے نہ صداقت کا نشاں ایک رہے3/4
- 365تعریف بتاؤں شعر کی کیا کیا ہے4/4
- 366حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرا4/4
- 367سو طرح کا میرے لیے سامان کیا3/4
- 368مضموں میرے دل میں بے طلب آتے ہیں1/4
- 369چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیں3/4
- 370اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیا4/4
- 371بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوں3/4
- 372تنہا ہے چراغ دور پروانے ہیں4/4
- 373جس دل میں غبار ہو وہ دل صاف کہاں4/4
- 374جو چاہئے دیکھنا نہ دیکھا میں نے4/4
- 375دل مورد ایذا و بلا ہوتا ہےدل مورد ایزا و بلا ہوتا ہے4/4
- 376روشن ہے کہ شاد سخن آرا میں ہوں3/4
- 377کیوں بات چھپاؤں رند مے نوش ہوں میں3/4
- 378کیوں کر نہ رہے غم نہانی تیرا3/4
- 379ہر طرح کی دل میں چاہ کر کے چھوڑے3/4
- 380ہر حال میں آبروئے فن لازم ہے3/4
Arzoo Lakhnavi (1873–1951)
5Amjad Hyderabadi (1878–1961)
14- 386اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہے4/4
- 387سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیا3/4
- 388سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نے4/4
- 389اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہی4/4
- 390جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیں2/4
- 391دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوں4/4
- 392مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہے4/4
- 393کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہے2/4
- 394گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہے4/4
- 395ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہے4/4
- 396ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے3/4
- 397ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلا4/4
- 398ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیں4/4
- 399یہ سنگ نشاں ہے منزل وحدت کا4/4
Fani Badayuni (1879–1941)
3Wahshat Kalkatvi (1881–1956)
3Yaas Yagana Changezi (1884–1956)
24- 406ارمان نکلنے کا مزہ ہے کچھ اور4/4
- 407ایسا نہ ہو حق کا سامنا ہو جائے3/4
- 408بادل کو لگی کھلتے برستے کچھ دیر4/4
- 409دیکھے ہیں بہت چمن اجڑتے بستے4/4
- 410زنجیر سے ہونے کا نہیں دل بھاری4/4
- 411صبح ازل و شام ابد کچھ بھی نہیں3/4
- 412مشکل کوئی مشکل نہیں جینے کے سوا4/4
- 413مفلس کو مزہ زیست کا چکھنے نہ دیا4/4
- 414موجوں سے لپٹ کے پار اترنے والے4/4
- 415ہاں اے دل ایذا طلب آرام نہ لے4/4
- 416یوسف کو اس انجمن میں کیا ڈھونڈھتا ہے3/4
- 417امکان طلب سے کوئی آگاہ تو ہو4/4
- 418اپنی حد سے گزر گئے اب کیا ہے2/4
- 419حیران ہے کیوں راز بقا مجھ سے پوچھ4/4
- 420دل کو حد سے سوا دھڑکنے نہ دیا4/4
- 421دنیا سے الگ جا کے کہیں سر پھوڑو4/4
- 422دیکھوں کب تک گلوں کی یہ تشنہ لبی3/4
- 423رونا ہے بدا جنہیں وہ جم جم روئیں3/4
- 424ممکن نہیں اندیشۂ فردا کم ہو3/4
- 425منزل کا پتا ہے نہ ٹھکانہ معلوم4/4
- 426واللہ یہ زندگی بھی ہے قابل دید4/4
- 427واعظ کو مناسب نہیں رندوں سے تنے4/4
- 428کوئی تجھ کو پکارتا جاتا ہے4/4
- 429کیوں مطلب ہستی و عدم کھل جاتا4/4
Rasheed Lakhnavi (d. 1904)
10- 430احباب ملاقات کو جو آتے ہیں4/4
- 431اندوہ شباب ٹالنے کو خم ہوں3/4
- 432معلوم تھا تکلیف سوا گزرے گی4/4
- 433پیری میں حواس و ہوش سب کھوتے ہیں4/4
- 434کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوں4/4
- 435اب اور زمین و آسماں پیدا ہو2/4
- 436دنیا سے سبھی برے بھلے جائیں گے4/4
- 437نامی ہوئے بے نشان ہونے کے لیے3/4
- 438کچھ دل سے جھکے ہوئے کہا کرتے ہیں4/4
- 439کیوں کنج لحد کے متصل جاؤں گا4/4
Akhtar Shirani (1905–1948)
2احمد حسین مائل
16- 442اقرار نگر کو گدائی کا ہے4/4
- 443ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کی4/4
- 444پیری میں شباب کی نشانی نہ ملی4/4
- 445پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دے3/4
- 446ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہے4/4
- 447ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرے3/4
- 448اللہ متاع زندگانی مل جائے4/4
- 449اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں3/4
- 450افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے4/4
- 451میں اپنے کفن کا سینے والا نکلا4/4
- 452میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیا4/4
- 453کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیں4/4
- 454کہتے ہیں کہ رونق جمالی ہوں میں3/4
- 455ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے4/4
- 456یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیرا4/4
- 457یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھا4/4
سید یوسف علی خاں ناظم
14- 458آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔ4/4
- 459الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شراب4/4
- 460پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نے3/4
- 461گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیح1/4
- 462گر عقل و شعور کی رسائی ہوتیگر عقل و شعور کی رسائی ہوتے4/4
- 463گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقی4/4
- 464گو کچھ بھی وہ منہ سے نہیں فرماتے ہیںگو کچھ بھی وہ منہ سی نہیں فرماتے ہیں3/4
- 465یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیف2/4
- 466ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیں4/4
- 467عاشق جو ہوا ہے تو کسی پر ناگاہعاشق جو ہوا ہے تو کسے پر ناگاہ3/4
- 468ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار3/4
- 469وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگا4/4
- 470کیا بات ہے کارساز تیری میں کون3/4
- 471یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔ3/4
بیان میرٹھی
9- 472آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہے4/4
- 473افلاس میں کیوں ٹیکس لگا رکھا ہے3/4
- 474بیدار نہیں کوئی جہاں خواب میں ہے4/4
- 475سچ ہے کہ جہاں میں سیر کیا کیا دیکھی4/4
- 476پیری کی سپیدی ہے کہ مرتا ہوں میں3/4
- 477کب کوئی فضول ہاتھ ملتا ہے بھلا4/4
- 478ہاں جہل تمہیں سے رنگ لایا پھر کیوں4/4
- 479اسرار جہاں لطیفۂ غیبی ہیں4/4
- 480گرمی امسال کس قیامت کی پڑی4/4
مرزا سلامت علی دبیر
9- 481آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے4/4
- 482صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سے2/4
- 483پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے3/4
- 484اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہے3/4
- 485اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کر2/4
- 486کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہے4/4
- 487ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائے3/4
- 488ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہے3/4
- 489یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کو4/4
George Puech Shor
8سید محمد عبد الغفور شہباز
8ساحر دہلوی
6Jagat Mohan Lal Ravan
5میر مہدی مجروح
5سرور جہاں آبادی
4آسی الدنی
3فرحت کانپوری
2مرزا علی لطف
2بھارتیندو ہریش چندر
1عبدالرحمان احسان دہلوی
1قاسم علی خان آفریدی
1Beside each poem: how many of its lines arooz scans. A line it cannot scan is marked in the text — a limit of arooz, not of the poet.