کی گود میں بلی دیکھ کر
تجھ کو دُزدیدہ نگاہی یہ سِکھا دی کس نے
رمز آغازِ محبّت کی بتا دی کس نے
ہر ادا سے تری پیدا ہے محبّت کیسی
نیلی آنکھوں سے ٹپکتی ہے ذکاوت کیسی
دیکھتی ہے کبھی ان کو، کبھی شرماتی ہے
کبھی اُٹھتی ہے، کبھی لیٹ کے سو جاتی ہے
آنکھ تیری صفَتِ آئنہ حیران ہے کیاarooz could not scan this line
نُورِ آگاہی سے روشن تری پہچان ہے کیا
مارتی ہے انھیں پونہچوں سے، عجب ناز ہے یہarooz could not scan this line
چھیڑ ہے، غُصّہ ہے یا پیار کا انداز ہے یہ؟
شوخ تُو ہوگی تو گودی سے اُتاریں گے تجھے
گِر گیا پھُول جو سینے کا تو ماریں گے تجھے
کیا تجسّس ہے تجھے، کس کی تمنّائی ہے
آہ! کیا تُو بھی اسی چیز کی سودائی ہے
خاص انسان سے کچھ حُسن کا احساس نہیں
صُورتِ دل ہے یہ ہر چیز کے باطن میں مکیں
شیشۂ دہر میں مانندِ مئے ناب ہے عشق
رُوح خورشید ہے، خونِ رگِ مہتاب ہے عشق
دلِ ہر ذرّہ میں پوشیدہ کسک ہے اس کی
نور یہ وہ ہے کہ ہر شے میں جھلک ہے اس کی
کہیں سامانِ مسرّت، کہیں سازِ غم ہے
کہیں گوہر ہے، کہیں اشک، کہیں شبنم ہے
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.