Book
ضربِ کلیم
Zarb-e-Kaleem — The Rod of Moses
Allama Iqbal (1877–1938)
202 poems1,664 linesWith English translation
arooz scans 86.5% of the lines
Contents
اسلام اور مسلمان
Islam and the Muslims- 1صبحیہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز4/4
- 2لا الہ الا اللہخودی کا سِرِّ نہاں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ5/14
- 3تن بہ تقدیراسی قُرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم6/6
- 4معراجدے ولولۂ شوق جسے لذّتِ پرواز6/8
- 5ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نامتُو اپنی خودی اگر نہ کھوتا25/30
- 6زمین و آسماںممکن ہے کہ تُو جس کو سمجھتا ہے بہاراں5/6
- 7مسلمان کا زوالاگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات6/8
- 8علم و عشقعلم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن16/16
- 9اجتہادہند میں حکمتِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے7/8
- 10شکر و شکایتمیں بندۂ ناداں ہوں، مگر شُکر ہے تیرا8/8
- 11ذکر و فکریہ ہیں سب ایک ہی سالِک کی جُستجو کے مقام2/6
- 12ملائے حرمعجَب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو4/4
- 13تقدیرنااہل کو حاصل ہے کبھی قُوّت و جبروت7/8
- 14توحیدزندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی6/10
- 15علم اور دینوہ علم اپنے بُتوں کا ہے آپ ابراہیم7/8
- 16ہندی مسلمانغدّارِ وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن4/6
- 17آزادی شمشیر کے اعلان پرسوچا بھی ہے اے مردِ مسلماں کبھی تُو نے7/8
- 18جہادفتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے16/16
- 19قوت اور دیناسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں6/8
- 20فقر و ملوکیتفقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے7/8
- 21اسلامرُوح اسلام کی ہے نُورِ خودی، نارِ خودی6/6
- 22حیات ابدیزندگانی ہے صدف، قرہ نیساں ہے خودی2/4
- 23سلطانیکسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے13/14
- 24صوفی سےتری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا6/6
- 25افرنگ زدہترا وجود سراپا تجلّیِ افرنگ8/8
- 26تصوفیہ حکمتِ ملکوتی، یہ علمِ لاہُوتی9/10
- 27ہندی اسلامہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت9/10
- 28دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ9/10
- 29دنیامجھ کو بھی نظر آتی ہے یہ بوقلمونی5/6
- 30نمازبدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں4/4
- 31وحیعقلِ بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں6/6
- 32شکستمجاہدانہ حرارت رہی نہ صُوفی میں5/6
- 33عقل و دلہر خاکی و نُوری پہ حکومت ہے خرد کی4/4
- 34مستی کردارصُوفی کی طریقت میں فقط مستیِ احوال6/6
- 35قبرمرقد کا شبستاں بھی اُسے راس نہ آیا3/4
- 36قلندر کی پہچانکہتا ہے زمانے سے یہ درویش جواں مرد8/10
- 37فلسفہافکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جلی ہوں11/12
- 38مردان خداوہی ہے بندئہ حر جس کی ضرب ہے کاری5/8
- 39کافر و مومنکل ساحلِ دریا پہ کہا مجھ سے خضَر نے5/6
- 40مہدی برحقسب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس8/8
- 41مومنہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم7/8
- 42محمد علی بابتھی خوب حضورِ عُلَما باب کی تقریر6/6
- 43تقدیراے خدائے کُن فکاں! مجھ کو نہ تھا آدم سے بَیر9/10
- 44اے روح محمدشِیرازہ ہُوا ملّتِ مرحوم کا ابتر7/8
- 45مدنیت اسلامبتاؤں تُجھ کو مسلماں کی زندگی کیا ہے10/10
- 46امامتتُو نے پُوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے10/10
- 47فقر و راہبیکچھ اور چیز ہے شاید تری مسلمانی11/12
- 48غزل - تیری متاع حیات، علم و ہنر کا سرورتیری متاعِ حیات، علم و ہُنر کا سُرور10/12
- 49تسلیم و رضاہر شاخ سے یہ نکتۂ پیچیدہ ہے پیدا6/8
- 50نکتہ توحیدبیاں میں نکتۂ توحید آ تو سکتا ہے7/10
- 51الہام اور آزادیہو بندۂ آزاد اگر صاحبِ اِلہام10/10
- 52جان و تنعقل مُدّت سے ہے اس پیچاک میں اُلجھی ہوئی5/6
- 53لاہور و کراچینظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غُیور5/6
- 54نبوتمَیں نہ عارِف، نہ مُجدِّد، نہ محدث،نہ فقیہ5/8
- 55آدمطلسمِ بُود و عدم، جس کا نام ہے آدم6/6
- 56مکہ اور جنیوااس دَور میں اقوام کی صُحبت بھی ہُوئی عام5/6
- 57اے پیر حرماے پِیرِ حرم! رسم و رہِ خانقہی چھوڑ9/10
- 58مہدیقوموں کی حیات ان کے تخیّل پہ ہے موقوف7/8
- 59مرد مسلمانہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن14/16
- 60پنجابی مسلمانمذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت6/6
- 61آزادیہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے6/8
- 62اشاعت اسلام فرنگستان میںضمیر اس مَدنِیّت کا دِیں سے ہے خالی4/6
- 63لاوالافضائے نُور میں کرتا نہ شاخ و برگ و بر پیدا6/6
- 64امرائے عرب سےکرے یہ کافرِ ہندی بھی جُرأتِ گُفتار3/6
- 65احکام الہیپابندیِ تقدیر کہ پابندیِ احکام!6/6
- 66موتلحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے6/6
- 67قم باذن اللہجہاں اگرچہ دِگر گُوں ہے، قُم بِاذنِ اللہ1/6
تعلیم و تربیت
Education and upbringing- 68مقصودنظر حیات پہ رکھتا ہے مرد دانش مند6/6
- 69زمانہ حاضر کا انسان’عشق ناپید و خرد میگزدش صُورتِ مار‘7/8
- 70اقوام مشرقنظر آتے نہیں بے پردہ حقائق اُن کو3/4
- 71آگاہینظر سپہر پہ رکھتا ہے جو ستارہ شناس6/6
- 72مصلحین مشرقمیں ہُوں نومِید تیرے ساقیانِ سامری فن سے4/4
- 73مغربی تہذیبفسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب4/4
- 74اسرار پیدااُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی8/8
- 75سلطان ٹیپو کی وصیتتُو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول10/10
- 76نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی7/10
- 77بیداریجس بندئہ حق بیں کی خودی ہوگئی بیدار5/8
- 78خودی کی تربیتخودی کی پرورش و تربیَت پہ ہے موقوف2/4
- 79آزادی فکرآزادیِ افکار سے ہے اُن کی تباہی4/4
- 80خودی کی زندگیخودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی5/6
- 81حکومتہے مُریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن7/8
- 82ہندی مکتباقبالؔ! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا12/14
- 83تربیتزندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے7/8
- 84خوب و زشتستارگانِ فضاہائے نیلگوں کی طرح5/6
- 85مرگ خودیخودی کی موت سے مغرب کا اندرُوں بے نور7/8
- 86مہمان عزیزپرُ ہے افکار سے ان مَدرسے والوں کا ضمیر3/4
- 87عصر حاضرپُختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی5/6
- 88طالب علمخدا تجھے کسی طُوفاں سے آشنا کر دے4/4
- 89امتحانکہا پہاڑ کی ندّی نے سنگ ریزے سے4/6
- 90مدرسہعصرِ حاضر مَلک الموت ہے تیرا، جس نے10/10
- 91حکیم نطشہحریفِ نکتۂ توحید ہو سکا نہ حکیم5/6
- 92اساتذہمقصد ہو اگر تربَیتِ لعلِ بدخشاں5/6
- 93مِلے گا منزلِ مقصود کا اُسی کو سُراغ10/10
- 94دین و تعلیممجھ کو معلوم ہیں پِیرانِ حرم کے انداز7/8
- 95جاوید سےغارت گر دیں ہے یہ زمانہ55/66
عورت
Woman- 96مرد فرنگہزار بار حکیموں نے اس کو سُلجھایا5/6
- 97ایک سوالکوئی پُوچھے حکیمِ یورپ سے4/4
- 98پردہبہت رنگ بدلے سِپہرِ بریں نے6/6
- 99خلوترُسوا کِیا اس دَور کو جَلوت کی ہُوس نے7/8
- 100عورتوجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ6/6
- 101آزادی نسواںاس بحث کا کچھ فیصلہ مَیں کر نہیں سکتا8/8
- 102عورت کی حفاظتاک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور5/6
- 103عورت اور تعلیمتہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگِ اُمومت6/6
- 104عورتجوہرِ مرد عیاں ہوتا ہے بے منَّتِ غیر7/8
ادبیات، فنونِ لطیفہ
Literature and the fine arts- 105دین و ہنرسرود و شعر و سیاست، کتاب و دِین و ہُنر8/8
- 106تخلیقجہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود9/10
- 107جنوںزُجاج گر کی دُکاں شاعری و مُلّائی6/6
- 108اپنے شعر سےہے گِلہ مجھ کو تِری لذّتِ پیدائی کا4/4
- 109پیرس کی مسجدمری نگاہ کمالِ ہُنر کو کیا دیکھے5/6
- 110ادبیاتعشق اب پیرویِ عقلِ خدا داد کرے4/4
- 111نگاہبہار و قافلہ لالہ ہائے صحرائی4/8
- 112مسجد قوت الاسلامہے مرے سِینۂ بے نُور میں اب کیا باقی10/12
- 113تیاترتری خودی سے ہے روشن ترا حریمِ وجود7/8
- 114شعاع امیدسُورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام32/34
- 115امیدمقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا ہُوں10/10
- 116نگاہ شوقیہ کائنات چھُپاتی نہیں ضمیر اپنا12/12
- 117اہل ہنر سےمہر و مہ و مشتری، چند نفس کا فروغ10/10
- 118دریا میں موتی، اے موجِ بے باک12/14
- 119وجوداے کہ ہے زیرِ فلک مثلِ شرر تیری نمود2/6
- 120سرودآیا کہاں سے نالہ نے میں سرود مے6/10
- 121نسیم و شبنمانجم کی فضا تک نہ ہُوئی میری رسائی7/8
- 122اہرام مصراس دشتِ جگر تاب کی خاموش فضا میں4/6
- 123مخلوقات ہنرہے یہ فِردوسِ نظر اہلِ ہُنَر کی تعمیر8/8
- 124اقبالفِردوس میں رومیؔ سے یہ کہتا تھا سنائیؔ4/4
- 125فنون لطیفہاے اہلِ نظر ذوقِ نظر خُوب ہے لیکن10/10
- 126صبح چمنشاید تو سمجھتی تھی وطن دُور ہے میرا8/8
- 127خاقانی'وہ صاحب 'تحفہ العراقین6/12
- 128رومیغلَط نِگر ہے تری چشمِ نیم باز اب تک6/6
- 129جدتدیکھے تُو زمانے کو اگر اپنی نظر سے8/8
- 130مرزا بیدلہے حقیقت یا مری چشمِ غلَط بیں کا فساد6/8
- 131جلال و جمالمرے لیے ہے فقط زورِ حیدری کافی7/8
- 132مصورکس درجہ یہاں عام ہُوئی مرگِ تخیّل8/8
- 133سرود حلالکھُل تو جاتا ہے مُغَنّی کے بم و زیر سے دل9/10
- 134سرود حرامنہ میرے ذکر میں ہے صُوفیوں کا سوز و سُرور6/6
- 135فوارہیہ آبجوُ کی روانی، یہ ہمکناریِ خاک3/4
- 136شاعرمشرق کے نیَستاں میں ہے محتاجِ نفَس نَے10/10
- 137شعر عجمہے شعرِ عجَم گرچہ طرب ناک و دل آویز7/8
- 138ہنروران ہندعشق و مستی کا جنازہ ہے تخیّل ان کا6/8
- 139مرد بزرگاُس کی نفرت بھی عمیق، اُس کی محبّت بھی عمیق9/10
- 140عالم نوزندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیرِ تقدیر5/6
- 141ایجاد معانیہر چند کہ ایجادِ معانی ہے خدا داد6/6
- 142موسیقیوہ نغمہ سردیِ خُونِ غزل سرا کی دلیل5/6
- 143ذوق نظرخودی بلند تھی اُس خُوں گرفتہ چینی کی3/4
- 144شعرمَیں شعر کے اَسرار سے محرم نہیں لیکن4/4
- 145رقص و موسیقیشعر سے روشن ہے جانِ جبرئیل و اہرمن4/4
- 146ضبططریقِ اہلِ دُنیا ہے گِلہ شکوَہ زمانے کا3/4
- 147رقصچھوڑ یورپ کے لیے رقصِ بدن کے خم و پیچ3/4
سیاسیاتِ مشرق و مغرب
The politics of East and West- 148اشتراکیتقوموں کی روِش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم9/10
- 149کارل مارکس کی آوازیہ علم و حکمت کی مُہرہ بازی، یہ بحث و تکرار کی نمائش4/6
- 150انقلابنہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و سازِ حیات4/4
- 151خوشامدمَیں کارِ جہاں سے نہیں آگاہ، ولیکن6/6
- 152مناصبہوا ہے بندئہ مومن فسونی افرنگ5/8
- 153یورپ اور یہودیہ عیشِ فراواں، یہ حکومت، یہ تجارت4/6
- 154نفسیات غلامیشاعر بھی ہیں پیدا، عُلما بھی، حُکما بھی8/8
- 155بلشویک روسروِش قضائے الہیٰ کی ہے عجیب و غریب5/6
- 156آج اور کلوہ کل کے غم و عیش پہ کچھ حق نہیں رکھتا4/4
- 157مشرقمری نوا سے گریبانِ لالہ چاک ہُوا6/6
- 158سیاست افرنگتری حریف ہے یا رب سیاستِ افرنگ4/4
- 159خواجگیدَورِ حاضر ہے حقیقت میں وہی عہدِ قدیم5/6
- 160غلاموں کے لیےحِکمتِ مشرق و مغرب نے سِکھایا ہے مجھے6/6
- 161اہل مصر سےخود ابوالہول نے یہ نکتہ سِکھایا مجھ کو5/6
- 162ابی سینیایورپ کے کرگسوں کو نہیں ہے ابھی خبر8/9
- 163ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے ناملا کر بَرہمنوں کو سیاست کے پیچ میں10/12
- 164جمعیت اقوام مشرقپانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّ6/6
- 165سلطانی جاویدغوّاص تو فطرت نے بنایا ہے مجھے بھی6/6
- 166جمہوریتاس راز کو اک مردِ فرنگی نے کِیا فاش3/4
- 167یورپ اور سوریافرنگیوں کو عطا خاکِ سُوریا نے کِیا3/4
- 168مسولینیکیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!14/14
- 169گلہمعلوم کسے ہند کی تقدیر کہ اب تک6/8
- 170انتدابکہاں فرشتۂ تہذیب کی ضرورت ہے8/10
- 171لادین سیاستجو بات حق ہو، وہ مجھ سے چھُپی نہیں رہتی8/8
- 172دام تہذیباقبالؔ کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے7/8
- 173نصیحتاک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسَر سے9/10
- 174ایک بحری قزاق اور سکندرصلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ہے میری6/6
- 175جمعیت اقوامبیچاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے5/6
- 176شام و فلسطینرندان فرانسیس کا میخانہ سلامت3/6
- 177سیاسی پیشوااُمید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے6/6
- 178نفسیات غلامیسخت باریک ہیں اَمراضِ اُمَم کے اسباب5/6
- 179غلاموں کی نمازکہا مجاہدِ تُرکی نے مجھ سے بعدِ نماز10/12
- 180فلسطینی عر ب سےزمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ6/6
- 181مشرق و مغربیہاں مَرض کا سبب ہے غلامی و تقلید3/4
- 182نفسیات حاکمی (اصلاحات)یہ مِہر ہے بے مہریِ صّیاد کا پردہ4/4
محراب گل افغان کے افکار
The thoughts of Mehrab Gul Afghan- 183میرے کُہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں8/10
- 184حقیقتِ ازَلی ہے رقابتِ اقوام5/6
- 185تِری دُعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی7/8
- 186کیا چرخِ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ10/14
- 187یہ مَدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارَو10/10
- 188جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد8/8
- 189رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندُستان16/20
- 190زاغ کہتا ہے نہایت بدنُما ہیں تیرے پَر6/6
- 191عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثلِ ہوَس9/10
- 192وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا9/10
- 193جس کے پرتوَ سے منوّر رہی تیری شبِ دوش8/8
- 194لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُو8/10
- 195مجھ کو تو یہ دُنیا نظر آتی ہے دِگرگُوں7/8
- 196بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہی7/8
- 197آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد8/8
- 198قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائی10/10
- 199آگ اس کی پھُونک دیتی ہے برنا و پیر کو9/10
- 200یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سُوری نے7/8
- 201نگاہ وہ نہیں جو سُرخ و زرد پہچانے7/10
- 202فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانی9/10
Beside each poem: how many of its lines arooz scans. A line it cannot scan is marked in the text — a limit of arooz, not of the poet.