Zarb-e-Kaleem · 18 of 202

جہاد

Allama Iqbal
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 16 of 16 lines

فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

دُنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

لیکن جنابِ شیخ کو معلوم کیا نہیں؟

مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سُود و بے اثر

تیغ و تُفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں

ہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذّت سے بے خبر

کافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دل

کہتا ہے کون اُسے کہ مسلماں کی موت مر

تعلیم اُس کو چاہیے ترکِ جہاد کی

دُنیا کو جس کے پنجۂ خُونیں سے ہو خطر

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زِرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر

ہم پُوچھتے ہیں شیخِ کلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات

اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.