Zarb-e-Kaleem · 193 of 202
جس کے پرتوَ سے منوّر رہی تیری شبِ دوش
Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن سالم مخبون محذوف
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
arooz scans 8 of 8 lines
جس کے پرتوَ سے منوّر رہی تیری شبِ دوش
پھر بھی ہو سکتا ہے روشن وہ چراغِ خاموش
مردِ بے حوصلہ کرتا ہے زمانے کا گِلہ
بندۂ حُر کے لیے نشترِ تقدیر ہے نوش
نہیں ہنگامۂ پیکار کے لائق وہ جواں
جو ہُوا نالۂ مُرغانِ سحر سے مَدہوش
مجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیری
اور عیّار ہیں یورپ کے شکر پارہ فروش!