Zarb-e-Kaleem · 160 of 202
غلاموں کے لیے
Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
arooz scans 6 of 6 lines
حِکمتِ مشرق و مغرب نے سِکھایا ہے مجھے
ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر
دین ہو، فلسفہ ہو، فَقر ہو، سُلطانی ہو
ہوتے ہیں پُختہ عقائد کی بِنا پر تعمیر
حرف اُس قوم کا بے سوز، عمل زار و زُبوں
ہو گیا پُختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر!