Zarb-e-Kaleem · 154 of 202

نفسیات غلامی

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 8 of 8 lines

شاعر بھی ہیں پیدا، عُلما بھی، حُکما بھی

خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ

مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک

ہر ایک ہے گو شرحِ معانی میں یگانہ

بہتر ہے کہ شیروں کو سِکھا دیں رمِ آہُو

باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ،

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند

تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.