Zarb-e-Kaleem · 10 of 202

شکر و شکایت

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 8 of 8 lines

میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شُکر ہے تیرا

رکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہُوت سے پیوند

اک ولولۂ تازہ دیا مَیں نے دلوں کو

لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند

تاثیر ہے یہ میرے نفَس کی کہ خزاں میں

مُرغانِ سحَر خواں مری صحبت میں ہیں خورسند

لیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تُو نے

جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.