Zarb-e-Kaleem · 174 of 202
ایک بحری قزاق اور سکندر
Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
arooz scans 6 of 6 lines
سکندر
صلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ہے میری
کہ تیری رہزنی سے تنگ ہے دریا کی پہنائی!
قزّاق
سکندر! حیف، تُو اس کو جواں مردی سمجھتا ہے
گوارا اس طرح کرتے ہیں ہم چشموں کی رُسوائی؟
ترا پیشہ ہے سفّاکی، مرا پیشہ ہے سفّاکی
کہ ہم قزاّق ہیں دونوں، تو مَیدانی، میں دریائی!