Zarb-e-Kaleem · 168 of 202

مسولینی

Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 14 of 14 lines

کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!

بے محل بِگڑا ہے معصومانِ یورپ کا مزاج

مَیں پھٹکتا ہُوں تو چھَلنی کو بُرا لگتا ہے کیوں

ہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تُو چھَلنی، مَیں چھاج

میرے سودائے مُلوکیّت کو ٹھُکراتے ہو تم

تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زُجاج؟

یہ عجائب شعبدے کس کی مُلوکیّت کے ہیں

راجدھانی ہے، مگر باقی نہ راجا ہے نہ راج

آلِ سِیزر چوبِ نَے کی آبیاری میں رہے

اور تم دُنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے خراج!

تم نے لُوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیام

تم نے لُوٹی کِشتِ دہقاں، تم نے لُوٹے تخت و تاج

پردۂ تہذیب میں غارت گری، آدم کُشی

کل رَوا رکھّی تھی تم نے، مَیں رَوا رکھتا ہوں آج!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.