Zarb-e-Kaleem · 90 of 202

مدرسہ

Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
arooz scans 10 of 10 lines

عصرِ حاضر مَلک الموت ہے تیرا، جس نے

قبض کی رُوح تری دے کے تجھے فکرِ معاش

دل لَرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا

زندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوقِ خراش

اُس جُنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کِیا

جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش

فیضِ فطرت نے تجھے دیدۂ شاہیں بخشا

جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفّاش

مَدرسے نے تری آنکھوں سے چھُپایا جن کو

خلوَتِ کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.