Zarb-e-Kaleem · 188 of 202

جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 8 of 8 lines

جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد

ہر دَور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

اُس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک!

ہے جس کے تصّور میں فقط بزمِ شبانہ

لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید

مشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.