Zarb-e-Kaleem · 198 of 202

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائی

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 10 of 10 lines

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائی

ہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی!

جو فقر ہُوا تلخیِ دوراں کا گِلہ مند

اُس فقر میں باقی ہے ابھی بُوئے گدائی

اس دور میں بھی مردِ خُدا کو ہے میَسّر

جو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائی

در معرکہ بے سوزِ تو ذوقے نتواں یافت

اے بندۂ مومن تو کجائی، تو کجائی

خورشید! سرا پردۂ مشرق سے نکل کر

پہنا مرے کُہسار کو ملبوسِ حنائی

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.