Zarb-e-Kaleem · 101 of 202

آزادی نسواں

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 8 of 8 lines

اس بحث کا کچھ فیصلہ مَیں کر نہیں سکتا

گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے، وہ قند

کیا فائدہ، کچھ کہہ کے بنوں اَور بھی معتوب

پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش

مجبور ہیں، معذور ہیں، مردانِ خِرد مند

کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ

آزادیِ نِسواں کہ زمرّد کا گُلوبند!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.