Zarb-e-Kaleem · 132 of 202
مصور
Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 8 of 8 lines
کس درجہ یہاں عام ہُوئی مرگِ تخیّل
ہِندی بھی فرنگی کا مقلّد، عجمی بھی!
مجھ کو تو یہی غم ہے کہ اس دَور کے بہزاد
کھو بیٹھے ہیں مشرق کا سُرورِ اَزلی بھی
معلوم ہیں اے مردِ ہُنَر تیرے کمالات
صنعت تجھے آتی ہے پُرانی بھی، نئی بھی
فطرت کو دِکھایا بھی ہے، دیکھا بھی ہے تُو نے
آئینۂ فطرت میں دِکھا اپنی خودی بھی!