Zarb-e-Kaleem · 115 of 202

امید

Allama Iqbal
Bahrمجتث مثمن مخبون محذوف
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن
arooz scans 10 of 10 lines

مقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا ہُوں

اگرچہ مَیں نہ سپاہی ہُوں نے امیرِ جنُود

مجھے خبر نہیں یہ شاعری ہے یا کچھ اور

عطا ہُوا ہے مجھے ذکر و فکر و جذب و سرود

جبینِ بندۂ حق میں نمود ہے جس کی

اُسی جلال سے لبریز ہے ضمیرِ وجود

یہ کافری تو نہیں، کافری سے کم بھی نہیں

کہ مردِ حق ہو گرفتارِ حاضر و موجود

غمیں نہ ہو کہ بہت دَور ہیں ابھی باقی

نئے ستاروں سے خالی نہیں سِپہرِ کبود

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.