Zarb-e-Kaleem · 75 of 202

سلطان ٹیپو کی وصیت

Allama Iqbal
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 10 of 10 lines

تُو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول

لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول

اے جُوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تُند و تیز

ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول

کھویا نہ جا صَنم کدۂ کائنات میں

محفل گداز! گرمیِ محفل نہ کر قبول

صُبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جِبرئیل نے

جو عقل کا غلام ہو، وہ دِل نہ کر قبول

باطل دُوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے

شِرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.