Book
دیوانِ غالب
Diwan-e-Ghalib — Ghalib’s collected Urdu ghazals
Mirza Ghalib (1797–1869)
272 poems3,659 lines
arooz scans 82.8% of the lines
Contents
- 1نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا17/18
- 2جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ2/12
- 3جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار13/28
- 4کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا14/14
- 5ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب2/2
- 6دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا9/22
- 7شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا17/28
- 8دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا12/14
- 9شمار سبحہ، “مرغوبِ بتِ مشکل” پسند آیا9/14
- 10دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہوا16/18
- 11ستایش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا18/22
- 12نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا2/14
- 13سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی8/14
- 14محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا12/14
- 15بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا19/20
- 16شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا16/16
- 17نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا12/14
- 18ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب10/10
- 19بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا17/18
- 20شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا12/14
- 21دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا14/14
- 22یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاا19/22
- 23ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا25/26
- 24درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا15/18
- 25اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں2/2
- 26پئے نذرِ کرم تحفہ ہے ‘شرمِ نا رسائی’ کا18/20
- 27گر نہ “اندوہِ شبِ فرقت” بیاں ہو جائے گا16/20
- 28درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا20/20
- 29گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیِ جا کا19/20
- 30قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفَس پرور ہوا12/16
- 31جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا7/8
- 32میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں6/6
- 33گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا5/6
- 34نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا5/6
- 35یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا16/16
- 36وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا12/16
- 37پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا18/20
- 38ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا21/22
- 39لبِ خشک در تشنگی، مردگاں کا11/12
- 40تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا13/14
- 41شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا11/12
- 42آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے10/16
- 43ضعفِ جنوں کو وقتِ تپش در بھی دور تھا2/2
- 44فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں2/2
- 45عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا20/22
- 46رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف13/22
- 47ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا12/16
- 48سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے5/10
- 49غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں8/10
- 50جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا13/14
- 51لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی4/12
- 52عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا18/20
- 53شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا2/2
- 54پھر وہ سوۓ چمن آتا ہے خدا خیر کرے1/2
- 55اسد! یہ عجز و بے سامانئِ فرعون توَام ہے1/2
- 56بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج15/18
- 57بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا3/6
- 58عیب کا دریافت کرنا، ہے ہنرمندی اسد1/2
- 59شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھا4/4
- 60دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی4/4
- 61پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب21/24
- 62افسوس کہ دنداں* کا کیا رزق فلک نے5/6
- 63رہا گر کوئی تا قیامت سلامت6/8
- 64آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست18/22
- 65مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالب1/2
- 66گلشن میں بندوبست بہ رنگِ دگر ہے آج16/18
- 67معزولئ تپش ہوئی افرازِ انتظار2/2
- 68لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیں2/2
- 69نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ15/18
- 70حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد15/18
- 71ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدم2/2
- 72تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے2/2
- 73بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار20/20
- 74گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر17/18
- 75کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر21/24
- 76لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر16/18
- 77ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور19/22
- 78صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر6/14
- 79جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی6/18
- 80ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں2/2
- 81لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور19/20
- 82حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز18/20
- 83فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر2/8
- 84کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!6/6
- 85وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک1/14
- 86گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی1/2
- 87نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز17/20
- 88مُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہے12/14
- 89اے اسد ہم خود اسیرِ رنگ و بوۓ باغ ہیں1/2
- 90نہ لیوے گر خسِ جَوہر طراوت سبزۂ خط سے3/4
- 91جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع2/12
- 92رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع14/14
- 93بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوش4/4
- 94زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک16/18
- 95آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے* تک12/14
- 96دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایک14/22
- 97گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ6/18
- 98ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل18/18
- 99غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس10/10
- 100بہ نالہ دل بستگی فراہم کر1/2
- 101مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور3/4
- 102رسیدن گلِ باغ واماندگی ہے6/8
- 103وہ فراق اور وہ وصال کہاں16/20
- 104کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں15/18
- 105آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیں20/22
- 106عہدے سے مدِحناز کے باہر نہ آ سکا7/8
- 107مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقت6/6
- 108ہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دن8/10
- 109ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں20/24
- 110مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں15/20
- 111مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں11/16
- 112برشکالِ* گریۂ عاشق ہے* دیکھا چاہۓ4/6
- 113عشق تاثیر سے نومید نہیں12/12
- 114جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں12/12
- 115ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں21/26
- 116کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں19/22
- 117حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں18/20
- 118ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں18/20
- 119نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں16/20
- 120دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا6/6
- 121ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر3/8
- 122قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آنا4/4
- 123دل لگا کر لگ گیا اُن کو بھی تنہا بیٹھنا4/4
- 124یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں8/8
- 125نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں12/14
- 126تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں15/16
- 127زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ8/16
- 128دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں15/16
- 129سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں30/32
- 130یعنی ہمارے* جیب میں اک تار بھی نہیں16/18
- 131نہیں ہے رخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میں14/18
- 132مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں14/14
- 133دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟17/18
- 134غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں17/20
- 135ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدے2/2
- 136اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوں13/14
- 137ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں18/23
- 138جس دن سے کہ ہم خستہ گرفتارِ بلا ہیں1/2
- 139میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالب2/2
- 140مے کشی کو نہ سمجھ بےحاصل2/2
- 141دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں6/16
- 142حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو6/6
- 143کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں6/8
- 144وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو20/20
- 145ابر روتا ہے کہ بزمِ طرب آمادہ کرو2/2
- 146ملی نہ وسعتِ جولان یک جنون ہم کو1/2
- 147قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو22/28
- 148واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو25/28
- 149تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو14/14
- 150گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو20/20
- 151کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو21/22
- 152رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو6/6
- 153بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو16/19
- 154شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ26/28
- 155از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ2/2
- 156ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ6/18
- 157نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھ2/2
- 158ہندوستان سایۂ گل پاۓ تخت تھا4/4
- 159صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے7/8
- 160مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے18/18
- 161بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی18/18
- 162ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے8/8
- 163تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا4/4
- 164گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا2/2
- 165غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی26/27
- 166حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی12/16
- 167کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے16/18
- 168درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے12/24
- 169سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے12/12
- 170گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے14/14
- 171تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو11/14
- 172ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو* بھی مٹ گیا12/12
- 173پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے1/2
- 174مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہے7/32
- 175رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے1/10
- 176چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے5/6
- 177عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی20/20
- 178ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے10/10
- 179زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ2/2
- 180اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے18/18
- 181رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے11/14
- 182دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے19/20
- 183گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے8/8
- 184کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے6/6
- 185اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ2/2
- 186سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے14/14
- 187دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی16/18
- 188تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے13/14
- 189کوئی دن گر زندگانی اور ہے11/12
- 190کوئی امّید بر نہیں آتی19/20
- 191دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟22/22
- 192کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے17/18
- 193پھر کچھ اس دل کو بیقراری ہے26/28
- 194جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی10/10
- 195نِکوہِش ہے سزا فریادئِ بیدادِ دِلبر کی9/10
- 196بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئے19/20
- 197جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی6/6
- 198ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے23/26
- 199آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے14/14
- 200میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں8/8
- 201ہجومِ غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے10/14
- 202پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد6/6
- 203جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے21/22
- 204حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے20/20
- 205نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی14/14
- 206عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگے11/14
- 207شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے26/26
- 208ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے19/21
- 209غیر لیں محفل میں بوسے جام کے14/14
- 210پھر اس انداز سے بہار آئی14/14
- 211تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے4/4
- 212کب وہ سنتا ہے کہانی میری18/18
- 213نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیب6/6
- 214گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے6/6
- 215جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی14/14
- 216سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم4/10
- 217ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں3/6
- 218چاہیے اچھّوں کو ، جتنا چاہیے19/20
- 219ہر قدم دورئِ منزل ہے نمایاں مجھ سے19/20
- 220نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے18/18
- 221چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرے12/14
- 222وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے9/12
- 223تپِش سے میری، وقفِ کشمکش، ہر تارِ بستر ہے18/20
- 224خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے3/4
- 225فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے12/18
- 226نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا4/4
- 227ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے6/6
- 228کرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغ7/8
- 229کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل ، کیوں نہ ہو؟5/6
- 230دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے16/18
- 231دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے18/18
- 232یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یارب" ، مجھے10/10
- 233حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے16/20
- 234کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں ، گر آجائے ہے ، مُجھ سے15/16
- 235زبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے8/8
- 236لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے6/8
- 237بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے26/28
- 238کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "19/22
- 239رونے سے اور عشق میں بےباک ہو گۓ3/14
- 240نشّہ ہا شادابِ رنگ و ساز ہا مستِ طرب3/4
- 241عرضِ نازِ شوخئِ دنداں براۓ خندہ ہے5/8
- 242حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے6/6
- 243جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی21/24
- 244ابنِ مریم ہوا کرے کوئی19/20
- 245بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟11/14
- 246باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے12/20
- 247روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کی4/6
- 248ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے18/21
- 249کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے2/12
- 250مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے6/6
- 251لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی1/2
- 252آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے4/12
- 253ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنا2/2
- 254سیاہی جیسے گِر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر1/2
- 255ہجومِ نالہ، حیرت عاجزِ عر ضِ یک افغاں ہے9/10
- 256خموشی میں تماشا ادا نکلتی ہے4/6
- 257جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے18/20
- 258آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے11/20
- 259شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے22/24
- 260منظورتھی یہ شکل تجلّی کو نور کی17/18
- 261غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے16/18
- 262مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے33/34
- 263نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے24/28
- 264آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہی12/14
- 265لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آۓ6/14
- 266میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی16/18
- 267عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر2/2
- 268اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے3/4
- 269زندانِ تحّمل ہیں مہمانِ تغافل ہیں2/2
- 270مستعدِ قتلِ یک عالم ہے جلاّدِ فلک1/2
- 271نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی2/2
- 272صبا لگا وہ طمانچہ طرف سے بلبل کے1/3
Beside each poem: how many of its lines arooz scans. A line it cannot scan is marked in the text — a limit of arooz, not of the poet.