Diwan-e-Ghalib · 170 of 272

گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے

Mirza Ghalib
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 14 of 14 lines

گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے

خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہ

دل فردِ جمع و خرچِ زباں ہاۓ لال ہے

کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدا

رحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے

ہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنی

اے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے

مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جان

نافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے

وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا

دریا زمین کو عرقِ انفعال ہے

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد

عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے