Diwan-e-Ghalib · 261 of 272

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے

Mirza Ghalib
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 16 of 18 lines

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے

یہ رنج کہ کم ہے مۓ گلفام، بہت ہے

کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہ

ہے یوں کہ مجھے ُدردِ تہِ جام بہت ہے

نَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میں

گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی

پاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہے

ہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟

پابستگئِ رسم و رہِ عام بہت ہےarooz could not scan this line

زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حر م سے؟arooz could not scan this line

آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے

ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو

انکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے

خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ

رہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے

ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے؟

شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.