Diwan-e-Ghalib · 210 of 272

پھر اس انداز سے بہار آئی

Mirza Ghalib
Bahrخفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن مفاعلن فِعْلن
arooz scans 14 of 14 lines

پھر اس انداز سے بہار آئی

کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی

دیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاک

اس کو کہتے ہیں عالم آرائی

کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر

رو کشِ سطحِ چرخِ مینائی

سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی

بن گیا روۓ آب پر کائی

سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے

چشمِ نرگس کو دی ہے بینائی

ہے ہوا میں شراب کی تاثیر

بادہ نوشی ہے باد پیمائی

کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالب

شاہِ دیں دار* نے شفا پائی