Diwan-e-Ghalib · 160 of 272

مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے

Mirza Ghalib
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 18 of 18 lines

مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے

بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر

آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی

ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری

تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو

اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے

ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا

ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے

ق

سر پاۓ خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی

رو سوۓ قبلہ وقتِ مناجات چاہیے

یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات

عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے

نشو و نما ہے اصل سے غالب فروع کو

خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے