Diwan-e-Ghalib · 180 of 272

اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے

Mirza Ghalib
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 18 of 18 lines

اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے

بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے

دل ہی تو ہے سیاستِ درباں سے ڈر گیا

میں اور جاؤں در سے ترے بِن صدا کیے

رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مے

مدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے

بے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضر

حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے* لئیم

تو نے وہ گنج‌ہاۓ گرانمایہ کیا کیے

کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو ؟

کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے ؟

صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو

دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے

ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں

بھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے

غالب تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا

مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے