Diwan-e-Ghalib · 144 of 272

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو

Mirza Ghalib
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 20 of 20 lines

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو

کیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو

چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا

ہے دل پہ بار، نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو

ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ

ہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو

پیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر درد کی دوا

یوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہو

ڈالا نہ بیکسی نے کسی سے معاملہ

اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو

ہے آدمی بجاۓ خود اک محشرِ خیال

ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

ہنگامۂ زبونئِ ہمّت ہے، انفعال

حاصل نہ کیجے دہر سے، عبرت ہی کیوں نہ ہو

وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیں

اپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہو

مٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی ؟

عمرِ عزیز صَرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو

اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسد

اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو