Diwan-e-Ghalib · 114 of 272

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

Mirza Ghalib
Bahrمتقارب مثمن سالم
فعولن فعولن فعولن فعولن
arooz scans 12 of 12 lines

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

خیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں

دل آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کے

سویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں

ترے سروِ قامت سے اک قدِ آدم

قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

تماشا کر اے محوِ آئینہ داری

تجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں

سراغِ تُفِ نالہ لے داغِ دل سے

کہ شب رَو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب

تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں