Diwan-e-Ghalib · 151 of 272

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو

Mirza Ghalib
Bahrہزج مثمن سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
arooz scans 21 of 22 lines

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو

نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں

سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہوarooz could not scan this line

کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو

نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا

تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو

قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم

گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

یہ کہہ سکتے ہو "ہم دل میں نہیں ہیں" پر یہ بتلاؤ

کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو

غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے

نہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے

ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں

عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو

کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی

بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالب

ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.