Diwan-e-Ghalib · 215 of 272
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
Mirza Ghalib
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 14 of 14 lines
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
اچّھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصوّر
دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سے
یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
اے بے خبراں! میرے لبِ زخمِ جگر پر
بخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی
گو زندگیِ زاہدِ بے چارہ عبث ہے
اتنا تو ہے، رہتی تو ہے تدبیر وضو کی
دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
صد حیف وہ نا کام کہ اک عمر سے غالبؔ
حسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی